ابوظہبی، 28 ستمبر، 2026 (وام) -- اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم یو این او ڈی سی میں ایڈووکیسی سیکشن کی سربراہ سونیا یی نے متحدہ عرب امارات کو جدت کا نمایاں عالمی مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابوظہبی میں جرائم کی روک تھام اور فوجداری انصاف سے متعلق اقوام متحدہ کی 15ویں کانگریس ٹیکنالوجی، انصاف اور جرائم کی روک تھام پر تبادلہ خیال کے لیے ایک اہم عالمی پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے۔
ایمریٹس نیوز ایجنسی وام سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابوظہبی 2026 جرائم کی روک تھام اور فوجداری انصاف کے ماہرین اور رہنماؤں کا دنیا کا سب سے بڑا اجتماع ہے۔
سونیا یی کے مطابق اقوام متحدہ اپنے ابتدائی برسوں سے اس شعبے میں کانگریس منعقد کرتا آ رہا ہے، جبکہ موجودہ اجلاس اب تک کا سب سے بڑا ایڈیشن ہے، جس میں 5,000 سے زائد شرکاء شامل ہیں۔ ان میں 540 سے زیادہ وزرائے انصاف اور سینئر حکام بھی شریک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وسیع اور متنوع عالمی شرکت نے جرائم کی روک تھام، انصاف تک رسائی بہتر بنانے اور بالخصوص ٹیکنالوجی سے جڑے نئے جرائم اور خطرات سے نمٹنے پر جامع گفتگو کا موقع فراہم کیا ہے۔
اسی تناظر میں انہوں نے 'اعلامیہ ابوظہبی' کو ایک جامع دستاویز قرار دیا، جس میں انصاف تک رسائی بہتر بنانے، دنیا بھر میں عدالتی نظام مضبوط کرنے اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی و جدید ذرائع کو انصاف کے نظام کی ترقی کے لیے استعمال کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔
اعلان میں سائبر کرائم، انسانی اسمگلنگ، منظم جرائم کی مختلف شکلوں اور ان سے متعلق دیگر چیلنجز کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔
سونیا یی نے کہا کہ 'اعلامیہ ابوظہبی' ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کو فروغ دینے کے ساتھ اس کے مجرمانہ استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات پر بھی توجہ دیتا ہے۔ ان کے مطابق کانگریس میں بحث صرف سائبر کرائم یا ٹیکنالوجی کے مجرمانہ استعمال تک محدود نہیں، بلکہ اس بات پر بھی مرکوز ہے کہ جدید ٹیکنالوجیز کی مدد سے مشترکہ طور پر مؤثر حل کیسے تیار کیے جا سکتے ہیں۔