ابوظہبی، یکم اکتوبر 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل، مشیر ڈاکٹر حمد سیف الشامسی نے فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 سے متعلق بدھ کے واقعے کی تحقیقات کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے ماہر ارکان پر مشتمل خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ یہ پرواز دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے تل ابیب جا رہی تھی، تاہم بعد ازاں اس کا رخ تبدیل کیا گیا اور طیارے نے سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت لینڈنگ کی۔
یہ فیصلہ فلائی دبئی کے اس اعلان کے بعد کیا گیا کہ دوران پرواز کاک پٹ میں جھگڑا پیش آیا، جس پر طیارے میں سفر کرنے والے عملے کے ارکان نے مداخلت کرکے طیارے کو محفوظ بنایا۔
تحقیقاتی ٹیم نے جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی اور متحدہ عرب امارات کے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں اپنی کارروائی شروع کر دی ہے۔ اٹارنی جنرل نے ہدایت کی ہے کہ معلومات اور شواہد جمع کرنے، حقائق کا تعین کرنے اور واقعے کے حالات و محرکات کی مکمل جانچ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔
تحقیقات میں یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ آیا واقعے کا کسی دہشت گرد سرگرمی یا مقصد سے تعلق تھا، یا اس میں پیشگی منصوبہ بندی یا کسی قسم کی ہدایت شامل تھی۔
ڈاکٹر حمد سیف الشامسی نے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں اور عوام سے اپیل کی کہ مجاز حکام کی جانب سے حقائق جمع کرنے اور ان کی تصدیق کا عمل مکمل ہونے تک قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ معلومات کی تشہیر سے گریز کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی نتیجے پر نہ پہنچا جائے اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری معلومات اور بیانات پر اعتماد کیا جائے۔
متحدہ عرب امارات کے عدالتی حکام کو نافذ العمل قوانین کے تحت اس واقعے کی تحقیقات کا دائرہ اختیار حاصل ہے، کیونکہ طیارہ متحدہ عرب امارات میں رجسٹرڈ ہے اور اماراتی پرچم کے تحت پرواز کرتا ہے۔ اسی بنا پر طیارے میں ہونے والے جرائم پر متحدہ عرب امارات کا قانون لاگو ہوتا ہے، چاہے وہ ملک کی جغرافیائی حدود سے باہر ہی کیوں نہ پیش آئے ہوں۔