ہیلسنکی، 2 اکتوبر، 2026 (وام) -- فن لینڈ کی یونیورسٹی آف یواسکیلا کے محققین نے ایک نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ حیاتیاتی بڑھاپے کا عمل نوجوانی کے ابتدائی برسوں ہی میں تیز ہو سکتا ہے، جبکہ طرز زندگی کے ساتھ ماحول اور رہائشی حالات بھی اس کی رفتار پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
سائنسی جریدے انوائرنمنٹ انٹرنیشنل میں شائع تحقیق کے مطابق بچپن اور نوعمری کے دوران طرز زندگی اور ماحولیاتی عوامل 22 سال کی عمر میں حیاتیاتی عمر میں پائے جانے والے فرق کے تقریباً 28 فیصد کی وضاحت کرتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ جینیاتی عوامل، طرز زندگی اور ماحول مل کر اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ جسم کس رفتار سے بوڑھا ہوتا ہے۔ حیاتیاتی بڑھاپا پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے اور اس کی رفتار حقیقی عمر کے مقابلے میں تیز یا سست ہو سکتی ہے، جبکہ تیز حیاتیاتی بڑھاپا عمر سے متعلق بیماریوں کے جلد سامنے آنے کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
اسی تعلق کو سمجھنے کے لیے یونیورسٹی آف یواسکیلا نے جڑواں افراد پر ایک طویل مدتی تحقیق کی، جس میں مشین لرننگ ماڈلز کی مدد سے ایکسپوزوم یعنی زندگی بھر کے طرزِ زندگی اور ماحولیاتی اثرات کے مجموعے کا نوجوانی میں حیاتیاتی عمر پر اثر جانچا گیا۔
تحقیق میں مجموعی طور پر 186 عوامل کا جائزہ لیا گیا، جن میں طرز زندگی، رہائشی علاقوں میں سبزہ، فضائی آلودگی اور سماجی و آبادیاتی حالات شامل تھے۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ بچپن اور نوعمری کے دوران ان عوامل کا مجموعی اثر 22 سال کی عمر میں ایپی جینیٹک عمر میں نمایاں فرق سے جڑا تھا، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حیاتیاتی بڑھاپے کی رفتار پر ماحول اور طرز زندگی کے اثرات نسبتاً کم عمری ہی سے شروع ہو سکتے ہیں۔