متحدہ عرب امارات،قازقستان کےڈیٹا سینٹر ،مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کے تعاون کے معاہدے

ابوظبی، 12جنوری ، 2024 (وام) ۔۔متحدہ عرب امارات کی وزارت سرمایہ کاری نے قازقستان کی ڈیجیٹل ترقی، اختراعات اور ایرو اسپیس انڈسٹری کی وزارت اور خودمختار دولت فنڈ سمروک کازینا کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

اس اسٹریٹجک معاہدے کا مقصد قازقستان میں ڈیٹا سینٹر اور مصنوعی ذہانت منصوبوں میں سرمایہ کاری کے تعاون کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنا ہے۔ معاہدے پر سرمایہ کاری کے وزیر محمد حسن السویدی اور قازقستان کی ڈیجیٹل ترقی، اختراعات اور ایرو اسپیس انڈسٹری کے وزیر Bagdat Mussin اور سمروک کازینا کے انتظامی بورڈ کے چیئرمین نورلان ژاکوپوف نے دستخط کیے۔ ڈیٹا سینٹرز تنظیموں کے لیے اہم ڈیٹا کو ذخیرہ کرنے اور ایپلیکیشنز کو چلانے کے لیے ضروری ہیں۔

قازقستان جو وسطی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت ہے اپنے ڈیٹا سینٹر کی صنعت میں کافی ترقی دیکھ رہا ہے جس کی وجہ کمپیوٹنگ وسائل، ترقی پسند حکومتی پالیسیوں اور اے آئی کی ترقی کی بڑھتی ہوئی مانگ ہے۔ ملک کی ڈیٹا سینٹر مارکیٹ 2024 اور 2028 کے درمیان 6.83 فیصد کمپاؤنڈ سالانہ ترقی کی شرح سے بڑھنے کا امکان ہےجس کے نتیجے میں مارکیٹ کا حجم 416.7 ملین ڈالرہوگا۔

متحدہ عرب امارات اور قازقستان کے درمیان مفاہمت کی یادداشت سرکاری اور نجی تنظیموں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی ترقی کے ذریعے مضبوط اور موثر تعاون کے قیام پر مرکوز ہے۔معاہدے میں متعلقہ اقدامات کو تقویت دینے اور علم کے تبادلے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے مراعات متعارف کرانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

محمد حسن السویدی نے کہا کہ معاہدہ ہماری دونوں قوموں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور اقتصادی ترقی کے لیے مشترکہ وژن کو حاصل کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ قازقستان میں ڈیٹا سینٹر اور اے آئی منصوبوں میں منصوبہ بند سرمایہ کاری ملک کے پھیلتے ہوئے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بڑھانے میں مدد کرے گی جس سے کاروباری اداروں کو ڈیجیٹائزیشن سے فائدہ اٹھانے کے مزید مواقع ملیں گے۔

سمروک کازینا کے انتظامی بورڈ کے چیئرمین نورلان ژاکوپوف نے کہا کہ ڈیٹا مراکز کا قیام اور ترقی قازقستان کی تکنیکی ترقی کے لیے اہم ہے۔ وہ جدت کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کام کرتے ہیں، اقتصادی ترقی کو فروغ دیتے ہیں اور قوم کو عالمی ڈیجیٹل منظر نامے میں صف اول میں لے جاتے ہیں۔ مزید برآں ڈیٹا سینٹرز کی اسٹریٹجک ترقی نہ صرف ملکی صلاحیتوں کو بڑھاتی ہے بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک مقناطیس کا کام بھی کرتی ہے جس سے قازقستان کو بین الاقوامی کاروباروں کے لیے ایک پرکشش منزل کے طور پر پوزیشن میں لایا جاتا ہے جو ایک مضبوط تکنیکی بنیادی ڈھانچے کے خواہاں ہیں۔

2022 کے دوران قازقستان کی متحدہ عرب امارات کو برآمدات 560.34 ملین ڈالر تھیں جبکہ قازقستان کو متحدہ عرب امارات کی برآمدات 1.69 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں۔

ترجمہ: ریاض خان