دبئی، 16جنوری ، 2024 (وام) ۔۔ نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی ہدایت پر دبئی کے ولی عہد، دبئی کی ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین اور دبئی اعلیٰ کمیٹی برائے ترقی اور شہری امور کے کے چیئرمین شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم نے 'دبئی انٹگریٹڈ ہاؤسنگ سینٹر' کا افتتاح کیا جو شہریوں کوایک ہی چھت کے نیچے 54 رہائشی خدمات فراہم کرے گا۔ مرکزکا قیام عزت مآب شیخ محمد بن راشد کی ہدایات کے مطابق ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ رہائشی محلے شہریوں کو دنیا کا اعلیٰ ترین معیار زندگی فراہم کریں۔
یہ حال ہی میں شروع کیے گئے دبئی سوشل ایجنڈا 33 کے ساتھ بھی مطابقت رکھتا ہے ۔ ناد الشیبا کے ایونیو مال میں واقع یہ مرکز فروری میں کام شروع کرے گا اور یہ چار سرکاری محکموں اور دو نجی شعبے کے شراکت داروں سے خدمات فراہم کرے گا۔
شیخ حمدان بن محمد نے کہا کہ حکومت دبئی اپنے شہریوں کی خوشی اور بھلائی کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ یہ عزم عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کے وژن اور ہدایات کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد کام، زندگی، بہبود اور رہائش کے حوالے سے شہریوں کی امنگوں کو پورا کرنا ہے۔ انہون نے کہا کہ یہ اقدامات خاندانی اور سماجی استحکام کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے ہیں جو ملک کے ترقیاتی سفر کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مرکز کے دورے کے دوران شیخ حمدان نے کہا کہ دبئی سوشل ایجنڈا 33 کے تحت ہم نے دبئی انٹیگریٹڈ ہاؤسنگ سینٹر قائم کیا ہے۔ یہ شہریوں کو ایک ہموار اور پریشانی سے پاک گھر بنانے کا تجربہ پیش کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ مرکز 54 خدمات پیش کرے گا جس میں چار سرکاری اداروں اور نجی شعبے کے دو شراکت داروں کے وسائل کو ایک چھت کے نیچے اکٹھا کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مرکز جامع مدد فراہم کرے گا جس میں ڈیزائن کے انتخاب کے لیے مشاورت، لاگت بچانے کے اقدامات پر رہنمائی اور بینکوں کے ذریعے فنانسنگ میں مدد شامل ہے۔ مقصد آسان رسائی کے ساتھ ایک آرام دہ ماحول پیدا کرنا ہے، شہریوں کے لیے ہموار، آسان اور موثر گھر بنانے کے تجربے کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاندانی گھر کی تعمیر بہت سے نوجوان افراد کے لیے ایک مشکل تجربہ ہو سکتا ہے جو مخصوص مہارت اور مالی اور قانونی آگاہی کا مطالبہ کرتا ہے۔ ہمارا مقصد شہریوں کے لیے اس تجربے کو تبدیل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرکز اگلے مہینے سے اپنا کام شروع کرنے اور خدمات کی فراہمی کے لیے تیار ہے۔ شیخ حمدان نے کہا کہ ہم اگلے مرحلے میں نئے منصوبے شروع کرنا جاری رکھیں گے جو مستحکم خاندانوں کی پرورش اور ان کے لیے اعلیٰ ترین معیار زندگی کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
سینٹر کا مقصد دبئی سوشل ایجنڈا 33 کا بنیادی مقصد حاصل کرنا ہ، جس کا مقصد دبئی کو ہاؤسنگ سروسز کے لیے عالمی معیار کے طور پر کھڑا کرنا ہے۔ یہ اقدام ایجنڈے کے مخصوص اہداف میں سے ایک کے مطابق ہے۔ درخواست کے ایک سال کے اندر ہر نئے اماراتی خاندان کو زمین اور رہائشی قرض کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔ دبئی انٹیگریٹڈ ہاؤسنگ سینٹر جامع ہاؤسنگ سروسز فراہم کرے گا جس میں خاندانی سائز کے مطابق ذاتی ڈیزائن اور بجٹ کی منصوبہ بندی، داخلہ ڈیزائن اور رنگ سکیموں کے انتخاب میں مدد، تعمیراتی اور مالیاتی منصوبہ بندی پر مشاورت اور منصوبے کی لاگت کا تخمینہ شامل ہے۔
مزید برآں سینٹر شہریوں کی متنوع ضروریات کو پورا کرتا ہے، جس میں رہائش، تعمیرات اور زمینی خدمات بشمول رہائشی زمینوں کا انتخاب اور مختص کرنے پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ دبئی انٹیگریٹڈ ہاؤسنگ سینٹر کے دورے کے دوران شیخ حمدان نے تعمیراتی نمائش کا دورہ کیا جس میں ان شہریوں کے لیے ڈیزائن کے عناصر کی نمائش کی گئی ہے جو اپنے گھروں کی تعمیر کے خواہاں ہیں۔
مرکز کے ذریعے خدمات پیش کرنے والے سرکاری اداروں میں محمد بن راشد ہاؤسنگ اسٹیبلشمنٹ ، دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی، دبئی میونسپلٹی اور دبئی لینڈ شامل ہیں۔ مزید برآں دو پرائیویٹ پارٹنرز، ایمریٹس اسلامک بینک اور سوبھا ریئلٹی بھی پیش کی جانے والی خدمات کے سلسلے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ مطر الطائر نے کہا کہ مکمل طور پر تیار کردہ سینٹر دبئی 2040 اربن ماسٹر پلان کے مطابق شہریوں کو جامع ہاؤسنگ خدمات فراہم کرنے کے لیے دبئی حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ دبئی میونسپلٹی کے ڈائریکٹر جنرل داؤد الحاجری نے کہا کہ سینٹر شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنے والی شاندار رہائشی خدمات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی ہو کو سہولت فراہم کرتا ہے۔
سلطان بطی بن میجرن نے کہا کہ مرکز کے ذریعے مختلف اداروں کے درمیان قریبی تعاون سے شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔ عمر حماد عبداللہ حماد بوشہاب نے کہا کہ مرکز رہائش اور تعمیرات کے لیے اعلیٰ درجے کی خدمات اور حل فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کا تصور مختلف اداروں کے درمیان جاری تعاون کا نتیجہ ہے جس کا مقصد شہریوں کے لیے خوشی اور بہبود کے اعلیٰ درجے کا حصول ہے۔
جنوری کے شروع میں عزت مآب شیخ محمد بن راشد نے ایک عشرے کے اندر امارات میں اماراتی خاندانوں کی تعداد کو دوگنا کرنے کے لیے 208 ارب درہم دبئی سوشل ایجنڈا 33 کا آغاز کیا۔ انہوں نے شہریوں کے لیے رہائش کے معیار، صحت کی دیکھ بھال اور معیار زندگی کو بڑھانے کے منصوبے بھی ترتیب دیے۔
ترجمہ: ریاض خان