عالمی پناہ گزین برادری کو حقیقی معنوں میں پائیدار اور مسلسل مدد کی ضرورت ہے: جواہر القاسمی کا مصر میں یو این ایچ سی آر کے وفد سے ملاقات میں اظہار خیال

قاہرہ، 19 جنوری، 2024 (وام) ۔۔ شارجہ کے حکمران کی اہلیہ،دی بگ ہارٹ فانڈیشن (ٹی بی ایچ ایف)کی چیئرپرسن اور پناہ گزین بچوں کے لیے یو این ایچ سی آر کی نامور وکیل عزت مآب شیخہ جواہر بنت محمد القاسمی دنے اس بات پر زور دیا ہے کہ دنیا بھر کی پناہ گزین برادری کے موجودہ حقائق ہمارے اجتماعی مستقبل کی نشاندہی کرتی ہیں۔
شیخہ نے جبری بے گھر ہونے والے افراد کے انسانی وقار کو برقرار رکھتے ہوئے اور انہیں محفوظ اور مستحکم زندگی کے بنیادی حق سے لطف اندوز ہونے کے قابل بنانے کے لیے مسلسل مدد کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے پناہ گزینوں کی جسمانی اور نفسیاتی تکالیف کو کم کرنے کے لیے پرجوش عزم کا اظہار کیا۔
قاہرہ میں یو این ایچ سی آر کے مصر کے نمائندے ڈاکٹر حنان حمدان کی قیادت میں یو این ایچ سی آر کے وفد سے ملاقات میں انہوں نے کہا کہ ہم زبردستی بے گھر ہونے والے افراد کی جسمانی اور نفسیاتی تکالیف کو کم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اگرچہ انسانی ہمدردی کے اقدامات بہت اہم ہیں، لیکن وہ کافی نہیں ہیں۔ عالمی پناہ گزین برادری کو جس چیز کی حقیقی معنوں میں ضرورت ہے وہ پائیدار اور مسلسل مدد ہے جو انسانی وقار کے مطابق اور انہیں محفوظ اور مستحکم زندگی کے بنیادی حق سے لطف اندوز ہونے کے قابل بنائے گی۔ ، ملاقات میں دی بگ ہارٹ فانڈیشن کی ڈائریکٹر جنرل مریم الحمادی بھی موجود تھیں۔
ملاقات کا مقصد شیخہ کو یو این ایچ سی آر کی حکمت عملیوں اور پروگراموں کے بارے میں آگاہ کرنا تھا جو مصر اور پڑوسی ممالک میں پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشیوں کی مدد کے لیے اٹھائے جارہے ہیں۔
یو این ایچ سی آر کی کوششوں اور پناہ گزینوں کی ترجیحات اور ضروریات کی نشاندہی کرنے کے لیے ان کے ساتھ کام کرنے کی خواہش پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے، شیخہ جواہر نے کہا کہ آج عرب خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے ہم سب شدید متاثر ہیں۔ کسی بھی عرب مہاجر کی حالت زار ہماری حالت زار ہے اور ان کا وقار ہمارا وقار ہے۔ لہذا، ہم ایسے پائیدار طریقوں کو استعمال کرنے کے خواہاں ہیں جو بحران سے نمٹنے سے کہیں زیادہ بہتر ہوں۔
انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی تقدیر کو بدلنے کا کام ایسا نہیں کہ اس قابل غور نہ رکھا جائے۔ موجودہ علاقائی اور عالمی صورتحال کی روشنی میں، ہمیں عالمی ترقیاتی ایجنڈے کی اولین ترجیح کے طور پر اس پر توجہ دینی چاہیے۔ ایسے موثر اور مستقل حل تلاش کیے بغیر آگے بڑھنا ناممکن ہے جو لاکھوں بے گھر لوگوں کو باوقار زندگی کا حقیقی موقع فراہم کرے گا جہاں وہ خود اپنی تقدیر کے معمار ہوں گے۔ ہم اس مقام تک پہنچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم ان بنیادی عوامل کو پوری طرح پہچانیں اور ان کو ختم کر دیں جو لوگوں کو ان کے گھروں اور ان کے ممالک سے بے دخل کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
شیخہ نے مزید کہا کہ مہاجرین کے بارے میں ہمارا موقف درحقیقت ہماری انسانیت اور اقدار کا امتحان ہے۔ انہیں زندگی کی ضروریات اور سلامتی اور استحکام کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کرنا صرف انسانی حقوق کی تنظیموں کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ یہ ایک اجتماعی عالمی فرض ہے جو ہم سب کو انجام دینے کی ضرورت ہے، چاہے وہ افراد ہوں یا حکومتی ادارے، اور یا پورے بین الاقوامی برادری۔
شیخہ جواہر نے بتایا کہ خیراتی کام اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کرنے میں کبھی دیر نہیں کرنی چاہیئے یہ کام کی واحد قسم ہے جو ہمیشہ بروقت، ہمیشہ بامعنی ہوتی ہے - چاہے بحران کے دوران ہو یا بعد میں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جب ہم انسانی ہمدردی کی کوششیں کرتے ہیں، تو ہم نہ صرف ضرورت مندوں، پناہ گزینوں، یا بیماروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں، بلکہ ہم اپنے بچوں اور برادریوں کو بھی ایسے کاموں کی ترغیب دینے کے لیے متاثر کن ماڈل فراہم کرتے ہیں۔ ہمیں اپنی انسانیت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، خاص طور پر اس وقت جو ہم خطے میں دیکھ رہے ہیں۔
دورے کے دوران، عزت مآب نے مصری یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم سوڈان، عراق، یمن اور اریٹیریا کے متعدد پناہ گزین طلبا سے ملاقات کی۔
شیخہ جواہر کو طلبا کے حالات اور چیلنجوں کے بارے میں بتایا گیا، اور مصری قوانین اور ضوابط کے مطابق لیبر مارکیٹ میں ان کے انضمام کو آسان بنا کر ان کے ساتھ کھڑے ہونے اور ان کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے حل فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
شیخہ جواہر کو مصر میں موجود سوڈانی مہاجرین اور ان کی جائے پناہ دیگر ممالک کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا گیا۔ یو این ایچ سی آر کے وفد نے دیگر میزبان ممالک میں اپنی ضروریات اور چیلنجز کا جائزہ پیش کیا۔
وفد نے اس بات پر زور دیا کہ سوڈانی مہاجرین کے لیے ان ممالک میں بچوں اور نوجوانوں کے لیے تعلیم ترجیح ہے جہاں وہ پناہ کے خواہاں ہیں حالانکہ انھیں اپنے سروں پر چھت اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی نہیں ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر حنان حمدان نے شیخہ جواہر کی انسانی امدادی کی کوششوں اور خطے اور دنیا میں پناہ گزینوں کو ان سے پہنچنے والے فوائد کو سراہتے ہوئے کہا کہ یو این ایچ سی آر نے گزشتہ سالوں میں ٹی بی ایچ ایف سے ملنے والی امداد کے ذریعے دس لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں کی مددکی۔
ڈاکٹر حمدان نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ شارجہ اور شیخہ جواہر کی کاوشیں دنیا کے لیے ایک تحریک ہیں۔
ترجمہ۔تنویرملک