ڈیووس، سوئٹزرلینڈ، 19 جنوری 2024 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات نے گزشتہ پانچ دنوں سے ڈیووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیوای ایف) 2024 کے 54ویں ایڈیشن میں شرکت کی۔
اس سال، 100 سے زیادہ نمایاں شخصیات، بشمول کارپوریٹ لیڈرز، پرائیویٹ سیکٹر اورسرکاری افسران نے کئی سیشنز، پینل ڈسکشنز، کانفرنسزاور دو طرفہ میٹنگز میں شرکت کی۔
فورم میں اپنی موثر شرکت کے ذریعے، متحدہ عرب امارات نے استحکام، ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور شراکت داری کو مضبوط کیا۔ اس کے علاوہ ڈبلیو ای ایف کے دوران اعلان کردہ اقدامات اور معاہدوں سے تمام شعبوں میں مسابقت کو مزید مضبوط اور تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت کی تعمیر میں ملک کی قومی ترجیحات میں مدد ملی ۔
کابینہ امور کے وزیر محمد بن عبداللہ القرقاوی نے اس بات پر زور دیا کہ ایک اہم بین الاقوامی ملک کے طور پر، متحدہ عرب امارات مستقبل کے رجحانات کی تشکیل اور عالمی چیلنجوں کے لیے اختراعی اور غیر روایتی حل وضع کرنے میں رہنمائی کر رہا ہے۔ یہ صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کے وژن اور نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم، کی ہدایت کے مطابق اس کے غیر معمولی موقف اور فعال کردار کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہاپنے فعال وژن، منفرد ترقیاتی اور اقتصادی ماڈل اور بین الاقوامی تعاون کو تقویت دینے میں بے مثال شراکت کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کی ساکھ میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اوراس نے مختلف علاقائی اور عالمی مسائل میں اپنے مثبت کردار میں بین الاقوامی اعتماد حاصل کیا ہے۔
قرقاوی نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات اور اس کے بین الاقوامی شراکت داروں نے فورم کے اجلاسوں کے ذریعے بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجوں کے پائیدار حل کے لیے نئے تناظر اور ذرائع پیش کیے ہیں۔ وہ بامقصد مکالمے میں مصروف ہیں تاکہ جدید معاشی ڈھانچہ قائم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ڈبلیوای ایف میں متحدہ عرب امارات کے فعال اقدامات کو پیش کیا گیا اور اس نے جن معاہدوں پر دستخط کیے ہیں وہ ملک کی بااثر عالمی حیثیت کو فروغ دیں گے ۔
پرائیویٹ سیکٹر کے لیے موثر موجودگی
قومی کمپنیوں کے سربراہان، کارپوریٹ رہنماں، نجی شعبے کی معروف فرموں اور سینئر کاروباری رہنماوں نے اس سال متحدہ عرب امارات سے 80 فیصد شرکت کی۔ فورم میں 100 سے زائد ممالک سے تقریبا 3,000 شرکا شریک ہوئے۔
اس سال کے ایڈیشن میں کارپوریٹ ایگزیکٹوز کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ان کی شراکتیں مختلف اقتصادی اور ترقیاتی شعبوں میں شراکت داری کی تعمیر، پائیدار ترقی کی حمایت، اور کلیدی بین الاقوامی ترقیاتی چیلنجوں کے حل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرین گی۔
لگاتار دوسرے سال، متحدہ عرب امارات نے "ناممکن ممکن ہے" کے تھیم کے تحت ایک غیر معمولی پویلین کے ساتھ فورم میں حصہ لیا۔جہاں متعدد دو طرفہ ملاقاتوں، عوامی اجلاسوں اور پریس کانفرنسوں کی میزبانی کی گئی جس میں مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پویلین میں پرائیویٹ سیکٹر کی بڑی کمپنیوں، ممتاز قومی کمپنیوں کے سی ای اوز اور سرکاری اور پرائیویٹ دونوں شعبوں کے حکام کے لیے پینل ڈسکشن کا اہتمام کیا گیا۔
اسٹریٹجک شراکت داری
اس کے علاوہ، ڈبلیو ای ایف کے 54 ویں ایڈیشن کے دوران، یو اےای نے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جن کا مقصد ایک قابل اعتماد پارٹنر کے طور پر اپنے کردار کو مستحکم کرنا اور مختلف شعبوں میں عالمی مثبت تبدیلی کے لیے ایک مرکز بننا ہے۔
یو اےای کے نائب صدر ، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی ہدایات کے بعد، محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹوز (ایم بی آر جی آئی ) نےغزہ میں صحت کے شعبے کے لیے تقریبا 37 ملین درہم (10 ملین ڈالر ) کی امداد کا وعدہ کیا۔ اس حوالے سے ورلڈ اکنامک فورم میں ایم بی آر جی آئی اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کے درمیان معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
اس کے علاوہ، ایم بی آر جی آئی نے فوڈ انوویشن ہبس میٹنگ میں شرکت کی، جہاں اس نے عالمی اقتصادی فورم کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تاکہ فوڈ انوویشن ہبس کے لیے گلوبل پلیٹ فارم قائم کیا جا سکے .
ایم بی آر جی آئی نے جبری طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی مدد کے لیے براہ راست خوراک کی امداد اور پائیدار معاش کے منصوبوں کی صورت میں 60.6 ملین درہم کا وعدہ کیا ۔ ایم بی آر جی آئی کے تقریبا 37 ملین درہم کے وعدے سے یو این ایچ سی آر کے انسانی امدادی پروگراموں اور پائیدار ترقیاتی کے اقدامات کو فنڈ فراہم کیا جائے گا۔
مزید برآں، ایم بی آر جی آئی نے اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) کے پروگراموں کی حمایت کے لیے تقریبا 30 ملین درہم (8.1 ملین ڈالر) کے تعاون کا اعلان کیا، جس کا مقصد دنیا بھر میں کمزور بچوں اور خواتین کے لیے غذائی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اقتصادی اقدامات اور اہم اعلانات
فورم میں متحدہ عرب امارات نے ترقی پذیر کمیونٹیز کو بااختیار بنانے اور عالمی خوشحالی کو بڑھانے کے مقصد سے معیاری اقدامات کا آغاز کیا۔
ای سی او مارک گلوبل ایکریڈیٹیشن، متحدہ عرب امارات کی طرف سے اعلان کردہ اہم اقدامات میں سے ایک ہے، کو عالمی سبز معیشت میں ایم ایس ایم ایز کی مسابقت کو بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ دنیا بھر میں پائیداری بینچ مارکنگ سے متعلقہ ریگولیٹری عمل کو ہموار اور معیاری بنایا جا سکے۔
نیز، یو اےای کی حکومت اور ورلڈ اکنامک فورم نے "We he UAE for Strategic Intelligence 2031" پلیٹ فارم تیار کرنے کے لیے شراکت داری معاہدے پر دستخط کیے ، جو مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ڈیجیٹل ماڈل کی نمائندگی کرتا ہے، جس میں بہترین عالمی علمی وسائل اور بین الاقوامی معلومات شامل ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے پویلین سے، نیوز ویک وینٹیج انٹرنیشنل اور سوئس ہورائزن گروپ نے "مستقبل کے امکانات انڈیکس" (ایف پی آئی) رپورٹ - 2024 کے پہلے ایڈیشن کے نتائج جاری کیے۔
متحدہ عرب امارات کے حکومتی اقدام "جاھز" کو کو ورلڈ اکنامک فورم کی عالمی رپورٹ "Building a Resilient Tomorrow" رپورٹ میں شامل بہترین عالمی منصوبوں میں سے ایک منتخب کیا گیا ۔
فورم کے دوران یو اے ای نے تعلیم کے شعبے میں تکنیکی ترقی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے پیش کردہ مواقع اور چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مذاکرات میں حصہ لیا۔
فورم میں متحدہ عرب امارات کی شمولیت میں اقتصادی شعبوں، غیر ملکی تجارت، سرمایہ کاری اور ماحولیات سے متعلق ایونٹس شامل تھے۔ مذاکرات میں عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے ارتقا، عالمی تجارت کے مستقبل اور نئے عالمی تجارتی آرڈر کے امکانات پر ٹیکنالوجی کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
ترجمہ۔تنویرملک