دبئی، 23 جنوری، 2024 (وام) ۔۔ امارات ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل (ای آر ڈی سی) نے قومی تحقیق و ترقی کا لیڈرشپ پروگرام شروع کیا ہے، جو متحدہ عرب امارات کی جدت اور علم پر مبنی معیشت کے حصول میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
وزارت صنعت و جدید ٹیکنالوجی کے جنرل سیکرٹریٹ کی ٹیم کی زیرنگرانی یہ پروگرام ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی ریسرچ کونسل (اے ٹی آر سی) اور محمد بن راشد یونیورسٹی آف میڈیسن اینڈ ہیلتھ سائنسز (ایم بی آر یو) کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔
یہ خطے اپنی نوعیت کا پہلاپروگرام ہے، جس کا مقصد ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ مینجمنٹ میں بہترین طریقوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے جدت کے شعبے میں رہنماوں کو تیار کرنا ہے۔ یہ شرکاء کو قومی تحقیق و ترقی کی ترجیحات کے مطابق ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور جدت کے انتظام میں عمدہ طریقوں کو اپنانے اور فروغ دینے کے قابل بنائے گا۔
وزیر مملکت برائے پبلک ایجوکیشن و ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی سارہ الأميری نے کہا کہ متحدہ عرب امارات علم پر مبنی معیشت کی تعمیر کر رہا ہے جو جدت اور تحقیق اور ترقی کے ماحولیاتی نظام سے چل رہا ہے۔ بڑے پیمانے پر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پروگراموں کے لیے قومی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری قومی مقاصد کے حصول اور تکنیکی ترقی کے لیے عالمی مرکز کے طور پر متحدہ عرب امارات کی پوزیشن کو آگے بڑھانے کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ پروگرام غیر معمولی مقامی ہنر مندوں کو تجربے سے آراستہ کرنے میں اہم کردار ادا رے گا تاکہ تحقیق اور ترقی کے مختلف منصوبوں کے اثرات کو بڑھایا جا سکے اور ملک بھر میں جدت کو فروغ دیا جا سکے۔
ایڈوانس ٹیکنالوجی ریسرچ کونسل (اے ٹی آر سی) کے سیکرٹری جنرل فیصل البنائی نے کہاکہ جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے تشکیل پانے والے دور میں عالمی ٹیک ٹیلنٹ کے فرق کو دور کرنا بہت ضروری ہے۔
دبئی ہیلتھ کے سی ای او اور امارات ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل کے رکن ڈاکٹر عامر شریف نے کہا کہ دبئی ہیلتھ میں، ہمارا مقصد جدت اور اتحاد کی ذہنیت کو فروغ دے کر، زندگیوں کو تحفظ دینا اور انسانیت کے لیے شعبہ صحت کو ترقی دینا ہے۔ ہمیں علم پر مبنی معیشت کے ملکی وژن میں حصہ ڈالنے کا اعزاز حاصل ہے، جو جدت اور تحقیق اور ترقی کے جدید ماحولیاتی نظام کے ذریعے کارفرما ہے۔
یہ پروگرام متحدہ عرب امارات کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سسٹم کی مخصوص ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور اس میں احتیاط سے منتخب کردہ ماڈیولز شامل ہیں جو تحقیق اور ترقی کے پورے سفر پر محیط ہیں۔ پروگرام کے تحت شرکاء تحقیق اور ترقی کے منصوبوں کو حکمت عملی تشکیل دینے، منصوبہ بندی کرنے، ان کا انتظام کرنے اوراسے کمرشلائز کرنے بارے سیکھیں گے۔شرکا تحقیق اور ترقی کے تعاون کو فروغ دینے کے لیے عملی تجربات میں حصہ لیں گے۔
ماڈیول تحقیق اور ترقی کے پورے عمل کا احاطہ کرتے ہیں، جس کی شروعات ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور انوویشن مینجمنٹ کے اصولوں سے ہوگی اس کے بعد شرکاء تحقیق اور ترقی کی تشخیص کے بارے میں سیکھنے اور تحقیق اور ترقی کے نتائج کی پیمائش کرنے سے پہلے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور آئی پی کی حکمت عملی پر کام کریں گے۔
نیشنل ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ لیڈرشپ پروگرام کےلیے متحدہ عرب امارات کے عوامی، نجی اور تعلیمی شعبوں کے 20 اداروں میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ مینجمنٹ سے وابستہ 22 شہریوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔
لیڈرشپ پروگرام نیویارک یونیورسٹی ابوظہبی اور یونیورسٹی آف مانچسٹر کی جانب سے کرایا جائےگا ۔ دونوں ادارے پروگرام میں اپنی منفرد صلاحیت کوبروئے کار لائیں گے۔ نیویارک یونیورسٹی ابوظہبی جدت کے انتظام اور نرم مہارتوں کو ڈیزائن کرنے میں اپنے تجربات پیش کرے گی ، جبکہ مانچسٹر یونیورسٹی سائنس، ٹیکنالوجی، اور جدت کی پالیسیوں اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ مینجمنٹ پروگراموں کو تیار کرنے کاایک بہترین مرکز ہے۔
سیکھنے کا دورانیہ سات ماہ پر مشتمل ہو گا اس میں سیکھنے کے مختلف طریقوں کو شامل کیا جائے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ شرکاء حاصل کردہ علم اور ہنر کو بروئے کار لا سکیں۔ شرکاء نہ صرف ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور انوویشن مینجمنٹ کے ڈومینز میں تکنیکی مہارت حاصل کریں گے بلکہ گروپ اسائنمنٹس میں بھی سرگرمی سے حصہ لیں گے، سائٹ کے دوروں کے ساتھ، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ مینجمنٹ میں سینئر ایگزیکٹوز کے ساتھ تجربات کا تبادلہ حقیقی کیس اسٹڈیز اور سیشنز میں شرکتکرتے ہوئے مختلف انٹرایکٹو سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔
ترجمہ۔تنویرملک