وام کی جانب سے نیروبی میں دوسری گلوبل میڈیا کانگریس وائٹ پیپر کا اجراء

نیروبی، یکم مارچ، 2024 (وام ) ۔۔ گلوبل میڈیا کانگریس ( جی ایم سی) کی اسٹریٹجک پارٹنر امارات نیوز ایجنسی (وام) نے عالمی میڈیا انڈسٹری کے رجحانات، چیلنجز اور مواقع پر کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ایونٹ کا سالانہ وائٹ پیپر لانچ کیا۔
لانچنگ ایونٹ میں میڈیا رہنما حکومتی عہدیداران، ماہرین تعلیم، او ر میڈیا کی صنعت اور دیگر شخصیات نے 'ایک بڑھتے ہوئے پیچیدہ میڈیا لینڈ اسکیپ میں فیصلہ کن قیادت 'کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔
وائٹ پیپر کے بنیادی موضوعات سے متعلقہ کینیا کے کردار اور افریقی میڈیا کے وسیع تر منظر نامے پر ایک پینل بحث کا اہتمام کیا گیا۔
ڈائنامک پینل ڈسکشن میں وام کے ڈائریکٹر جنرل محمد جلال الریسی،اسٹینڈرڈ میڈیا گروپ میں چیف ایڈیٹر اوچینگ راپورو،افریقہ رپورٹ میں بزنس ایڈیٹرکنیکا سیگل اور آغا خان اسکول آف میڈیا، یونیورسٹی گریجویٹ اسکول آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن کے سینئر لیکچرر جوزف اوڈینڈو شامل تھے۔
بحث میں کینیا اور دیگر ممالک کے میڈیا کو درپیش انتہائی اہم مسائل خاص طور پر ٹیکنالوجی کی طرف سے پیش کردہ چیلنجز اور مواقع پر تبادلہ خیال کیاگیا۔
جوزف اوڈینڈو نے جونیئر صحافیوں کو تربیت دیتے وقت ڈیجیٹل خواندگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے نصاب پر نظرثانی کی ضرورت ہے، تاکہ اسے نئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ ہم آہنگ بنایا جا سکے۔
زیادہ تر گفتگو اے آئی کے کردار پر مرکوز تھی، اوچینگ راپورو کا کہنا تھا کہ اے آئی ٹولز کی تربیت علاقائی صحافت میں ان کے استعمال میں اہم ہے اور یہ کہ زیادہ تر اے آئی ٹولز دستیاب ہیں جو افریقہ اور کینیا سے باہر مواد کے ساتھ تربیت یافتہ ہیں۔ ہمیں اپنے ملکی سامعین کے لیے اے آئی کو مقامی بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرنا چاہیے۔
الریسی نے ان کے خیالات سے اتفاق اور نئی ٹیکنالوجیز کو شامل کرنے کے عمل میں صحافیوں کے تحفظ کے معاملے کو آگے بڑھاتے ہوئے، عالمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا انہوں نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی سطح پر اپنے کاپی رائٹس تحفظ کے لیے قوانین اور ضوابط بنانے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔
وائٹ پیپر کی اشاعت گزشتہ نومبر میں ابوظہبی میں جی ایم سی کے دوسرے ایڈیشن کے اختتام کے بعد ہوئی ہے۔ ایدنیک گروپ کے زیر اہتمام، وام کے اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر، اس ایونٹ میں عالمی میڈیا انڈسٹری کو درپیش سب اہم مسائل کو حل کرنے کے لیے تین دنوں کے دوران 24ہزار ماہرین اور شرکا نے شرکت کی تھی۔
گلوبل میڈیا کانگریس کی ایک اہم خصوصیت میڈیا فیوچر لیبز ہے، جو میڈیا انڈسٹری کے مستقبل کو تشکیل دینے والوں کی قیادت میں کھلے گول میز مباحثوں کا ایک سلسلہ ہے۔ وائٹ پیپر ان مباحثوں پر مبنی ہے، جو میڈیا انڈسٹری کے مستقبل سے متعلق بنیادی سوالات کا حل پیش کرتا ہے۔
بنیادی موضوعات میں پرنٹ جرنلزم کا کردار، میڈیا کے شعبے پر مصنوعی ذہانت کا اثر، میڈیا طریقوں کو آگاہ کرنے میں ڈیٹا کا بڑھتا ہوا کردار، ماحولیاتی صحافت، اور سپورٹ میڈیا کی بدلتی ہوئی نوعیت شامل تھی۔ اس مقالے میں دنیا بھر کے میڈیا پریکٹیشنرز اور تجزیہ کاروں کی چار ماہرانہ آراکے علاوہ ان شعبوں پر بھی توجہ دی گئی۔
وام کے ڈائریکٹر جنرل نے کہاکہ میڈیا انڈسٹری تیزی سے تبدیلی سے گزر رہی ہے - تبدیلی جو فیصلہ کن قیادت کا تقاضا کرتی ہے۔ اس وائٹ پیپر میں، ہم ان فیصلوں کو بیان کرتے ہیں جو میڈیا لیڈرز کو کرنے کی ضرورت ہے - جیسے کہ اے آئی کو ان کے کاموں میں شامل کرنا ہے یا نہیں - ایسے فیصلے جن کے لامحالہ گہرے نتائج ہو سکتے ہیں۔ تاہم، آج کے پینل اور گلوبل میڈیا کانگریس میں ہونے والی بات چیت سے جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ میڈیا بنیادی طور پر مستقبل کے بارے میں پر امید ہے۔ بلاشبہ، آگے چیلنجز ہیں، لیکن یہ دیکھنا بہت حوصلہ افزا ہے کہ میڈیا لیڈرز کینیا اور اس سے آگے مستقبل کی پائیدار میڈیا انڈسٹری کے بارے میں کتنے پرجوش ہیں۔
وائٹ پیپر آٹھ ابواب پر مشتمل ہے:
پہلا: "میڈیا میں اے آئی: ایک وسیع تبدیلی یا جدت کی ایک اور لہر؟" نیوز رومز میں مصنوعی ذہانت کے کردار کی دریافت ۔اس میں موجودہ خطرات کے باوجود روایتی میڈیا آوٹ لیٹس کی سست رفتاری کو روکنے کے لیے اے آئی کی صلاحیت پر زور دیا گیا ہے ۔ اس میں ملازمتوں میں کمی کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات اور خبروں کے وسیع تنوع کو بڑھانے اور حوصلہ افزائی کرنے کے لیے چھوٹی تنظیموں کی مدد کرنے کے لیے اے آئی کی صلاحیت سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔
دوسرا: "پرنٹ جرنلزم کا احیا؟" "نیوز سے بیزاری "، یا "میڈیا سے بیزاری "کے رجحان پر توجہ دی گئی کیونکہ اس سے خبروں کے مواد، خاص طور پر متنازعہ موضوعات کی ضرورت سے زیادہ نمائش کی وجہ سے صحافت کو پرنٹ کرنے کے لیے ایک وجودی خطرہ درپیش ہے۔ اس میں ان خطرات پر روشنی ڈالی جو اس رجحان سے صحافت کو لاحق ہیں، جیسے اٹھائے گئے مسائل کے حوالے سے بیزادی میں اضافہ، میڈیا اداروں پر اعتماد کا کمزور ہونا، اور حقائق کو گمراہ کن معلومات سے الگ کرنے میں بڑھتی ہوئی دشواری شامل ہے۔
بہر حال، یہ باب پرنٹ میڈیا کی بحالی کے امکانات کے بارے میں بڑھتی ہوئی امید کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ انڈسٹری نئے طریقوں کو اپنانے کی کوشش کر رہی ہے جو خبروں کے معیار اور صداقت کے حوالے سے اپنے وراثت کے بہترین پہلوں کو ہم عصر سامعین کی توقعات کے ساتھ ہے۔
تیسرا: "سامعین کو سمجھنے کا ایک نیا طریقہ" میں زور دے کر کہاگیا ہے کہ دنیا خبروں کے صارفین کی تیزی سے بدلتی ہوئی خصوصیات کا مشاہدہ کر رہی ہے، جس میں ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسے ویڈیو پر مبنی مواد میں بنیادی تبدیلی آئی ہے۔ یہ میڈیا انڈسٹری کے لیے نئے چیلنجز کا باعث ہے۔
چوتھا: "میدان میں اور میدان سے باہر خواتین سپورٹس کی طاقت کا فائدہ اٹھانا" کے باب میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور خواتین کھیل صحافیوں کے کام پر ان کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ پسماندہ افراد، خاص طور پر خواتین کے لیے روایتی رکاوٹیں آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں خواتین کے کھیلوں میں آمدنی میں اضافہ اور ناظرین کے ساتھ ساتھ کھیلوں میں خواتین کی کامیابیوں میں عام دلچسپی جیسے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
اس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ خواتین کھیل صحافیوں کے لیے ایسے حل اور آلات پر توجہ مرکوز کرنے کا ایک حقیقی موقع ہے جو خواتین کھلاڑیوں اور سامعین کے درمیان تعلقات کو بڑھا سکتے ہیں۔
پانچواں: "کھیلوں کے سامعین کیدلچسپی میں اضافے میں ٹیکنالوجی کا کردار،" اس میں جدید کھیلوں کی رپورٹنگ پر ٹیکنالوجی کے تبدیلی کے اثرات کو اجاگر کیاگیا ہے۔
ان نئی ٹیکنالوجیز نے جدید کھیلوں کی صحافت میں اہم تبدیلیاں لائی ہیں۔ تجزیات، ڈیٹا تجزیہ، اور ہر آخری تفصیل کو جانچنے کی خواہش عصری کھیلوں کی رپورٹنگ کے لازمی حصے بن چکے ہیں۔
چھٹا: "اے آئی اور میڈیا لٹریسی: ڈس انفارمیشن کی نئی حدود میں میڈیا منظر نامے پر چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹولز کے گہرے اثرات کو اجاگر کیا۔ جہاں مصنوعی ذہانت فوائد پیش کرتی ہے، وہیں یہ چیلنجز بھی متعارف کراتی ہے، خاص طور پر غلط معلومات کا مقابلہ کرنے میں۔
ساتویں: "ماحولیاتی صحافت: قارئین اور مسائل کے درمیان تقسیم کو ختم کرنا،" کے باب میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں ماحولیاتی صحافت کے اہم کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے ۔ وسیع پیمانے پر کوریج کے باوجود، سامعین کو شامل کرنا ایک چیلنج ہے۔
اس باب میں صحافیوں کی ذمہ داری پر زور دیا کہ وہ پیچیدہ سائنسی معلومات کو موثر طریقے سے پہنچا ئیں اور ماحولیاتی ذمہ داری کو فروغ دیں۔
آٹھواں: "ڈیٹا جرنلزم: ایک طاقتور ٹول - درست ہاتھوں میں، اس میں خبروں کی تیاری میں ڈیٹا کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ اس میں درستگی اور غیر جانبداری کو برقرار رکھتے ہوئے خام ڈیٹا کو بہترین کہانیوں میں پیش کرنے میں صحافیوں کو درپیش چیلنجوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
اس باب میں غیر معتبر یا متعصب ڈیٹا کے استعمال کے خلاف احتیاط کرتے ہوئے ذمہ دار ڈیٹا ترجمے اور تشریح کی اہمیت کو اجاگر اور ڈیٹا جرنلزم اور میڈیا کی نمائندگی سے متعلق تنازعات کو بھی حل کیا گیا ہے۔
ترجمہ۔تنویرملک