احمد بن محمد کی تیسرے عالمی پولیس سربراہی اجلاس کی افتتاحی تقریب میں شرکت

ابوظبی، 5 مارچ، 2024 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات کے نائب صدر ،وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی سرپرستی میں دبئی کے دوسرے نائب حکمران شیخ احمد بن محمد بن راشد المکتوم نے تیسرے عالمی پولیس سربراہی اجلاس کے افتتاح میں شرکت کی ۔ دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں 3 سے 7 مارچ تک دبئی پولیس کی میزبانی میں ہونے والی تین روزہ سربراہی کانفرنس میں 65 سے زائد ممالک، 170 سے زائد مقررین، 70 سے زائد سیکیورٹی لیڈرز اور 130 نمائش کنندگان شرکت کررہے ہیں۔افتتاحی تقریب میں دبئی پولیس کے کمانڈر انچیف لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ خلیفہ المری اور دنیا بھر سے پولیس سربراہان، سیکورٹی ماہرین اور پیشہ ور افراد نے بھی شرکت کی۔ عالمی پولیس سربراہی اجلاس ممتاز پولیس اور سیکورٹی رہنماؤں، عالمی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ماہرین کو تعاون اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دینے اور میدان میں تازہ ترین پیش رفتوں اور چیلنجوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اکٹھا کرتا ہے۔ سربراہی اجلاس کا مقصد جرائم سے نمٹنے اور کمیونٹیز میں سلامتی اور تحفظ کو بڑھانے کے لیے سب سے زیادہ اہم عالمی چیلنجوں سے نمٹنا ہے۔ اپنے افتتاحی خطاب میں دبئی پولیس کے کمانڈر انچیف نے شرکت کرنے والے مندوبین کا پرتپاک استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ قیادت کے وژن سے رہنمائی کرتے ہوئے دبئی اور متحدہ عرب امارات کی میزبانی میں ہونے والی اہم بین الاقوامی اور علاقائی تقریبات اور کانفرنسیں نئے خیالات، رجحانات اور بہترین طریقوں کے اشتراک کو فروغ دیتی ہیں جو اہم شعبوں میں ترقی کو تیز کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نائب صدر اور متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی سرپرستی میں سربراہی اجلاس کا مقصد ورکشاپس اور سیشنز کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو درپیش بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے نئے طریقے تلاش کرنا ہے۔ اس تقریب میں مجرمانہ، ٹریفک اور کمیونٹی کے شعبوں میں 10 سے زائد ایوارڈز کا اجراء بھی ہوگا۔ دبئی کو مستقبل کا شہر اور مواقع کی سرزمین قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدت طرازی اور تخلیقی صلاحیتیں اس کے اخلاق اور شناخت کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ انہوں نے دبئی پولیس کے ڈرون باکس کے حالیہ اجراء کا ذکر کیا جو کہ ڈرون لانچ کرنے کے لیے اے آئی سے چلنے والا پلیٹ فارم ہے جس نے مجموعی طور پر 2,679 واقعات میں اوسطاً ایمرجنسی رسپانس ٹائم کو ایک منٹ اور 13 سیکنڈ تک کم کر دیا ہے۔ پلیٹ فارم کی سیکیورٹی کوریج اس سال کے وسط تک دبئی کے 50 فیصد شہری علاقوں تک پہنچ جائے گی۔ دبئی پولیس اس نظام کو تعینات کرنے والی دنیا کی پہلی پولیس فورسز میں سے ایک ہے۔ انہوں نے حکومت کے وژن کی بدعت کی ایک مثال کے طور پر جلد ہی شروع ہونے والے تیرتے سمارٹ پولیس اسٹیشن کا حوالہ دیا ہے۔ اپنی نوعیت کا پہلا اقدام دبئی کے ساحل سے 10 کلومیٹر دور واقع تیرتا ہوااسٹیشن سات مختلف زبانوں میں فوجداری اور سیکیورٹی کے شعبوں میں 46 اہم خدمات پیش کرے گا۔ توقع ہے کہ یہ سہولت 2030 تک 500,000 سے زیادہ لوگوں کی خدمت کرے گی۔ انہوں نے دبئی پولیس کے انسانی وسائل کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے عزم کی بھی توثیق کی جو ان کے بقول بہترین کارکردگی کا بنیادی محرک ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کام اور ذہنی اور جسمانی تندرستی کے درمیان کامل توازن کو یقینی بنانا ملازمین کی وفاداری کو بڑھانے کے لیے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے دبئی پولیس کے ایک ملازم کی کہانی پر روشنی ڈالی ہے جو اپنا قومی فرض ادا کرتے ہوئے ملازمت پر زخمی ہو گیا تھا اور دبئی پولیس نے اس کی نفسیاتی اور جسمانی بحالی کا کس طرح خیال رکھا تھا۔ عالمی پولیس سربراہی اجلاس کے پہلے دن جرائم کی روک تھام کی کانفرنس ہوئی جس کا آغاز ’جرائم کے خلاف بین الاقوامی تعاون کا ارتقا‘ کے عنوان سے ہوا۔ سیشن نے جرائم کی روک تھام میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعاون کے لیے ایک فریم ورک کے قیام کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس نے ان طریقوں کا بھی جائزہ لیا جس میں پولیس فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اسٹریٹجک منصوبوں کو بانٹنے اور آپریشنل طریقہ کار کو مربوط کرنے کے لیے ایک لچکدار طریقہ کار تشکیل دے سکتے ہیں۔ ترجمہ: ریاض خان