متحدہ عرب امارات کا مالیاتی نظام پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ اور موثر ہے: مرکزی بنک

ابوظبی، 11 مارچ، 2024 (وام) ۔۔ مرکزی بینک کی طرف سے جاری کردہ 2023 کی چوتھی سہ ماہی کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے مالیاتی شعبے میں تکنیکی اور ساختی ترقی سیکورٹی، آپریشنل کارکردگی، موبائل بینکنگ ایپلی کیشنز تک رسائی، آن لائن بینکنگ اور مجموعی طور پر صارفین کے تجربے کو بڑھا رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ پوری معیشت میں ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر نفاذ کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کا مالیاتی نظام پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ اور موثر ہے۔ 2023 کی چوتھی سہ ماہی کے اختتام پر مقامی طور پر شامل بینکوں (سرمایہ کاری بینکوں کو چھوڑ کر) کی تعداد 22 بینکوں پر برقرار ہے۔

ان مقامی طور پر شامل بینکوں کی شاخیں دسمبر 2023 کے آخر میں کم ہو کر 489 تک پہنچ گئیں۔ 2023 کی چوتھی سہ ماہی کے اختتام پر ان بینکوں کے الیکٹرانک بینکنگ سروس یونٹس کی تعداد 46 یونٹ رہ گئی۔

دسمبر 2023 کے آخر میں 21 کیش آفس کے ساتھ کیش دفاتر کی تعداد مستقل رہی ۔ جی سی سی بینکوں کی تعداد 2023 کی چوتھی سہ ماہی کے اختتام پر 6 بینکوں کے علاوہ ایک ہول سیل جی سی سی بینک میں مسلسل برقرار ہے۔ ان بینکوں کی شاخیں بھی دسمبر 2023 کے آخر تک 6 برانچوں میں مستقل رہیں۔

دیگر غیر ملکی بینکوں کی تعداد 66 برانچوں کے ساتھ 22 بینک تھی۔ ان بینکوں کے الیکٹرانک بینکنگ سروس یونٹس کی تعداد 2023 کی چوتھی سہ ماہی کے دوران ایک کیش آفس میں مستقل رہی۔ 2023 کی چوتھی سہ ماہی کے اختتام پر مرکزی بینک کی طرف سے لائسنس یافتہ مالیاتی اداروں کی تعداد یعنی ہول سیل بینک، نمائندہ دفاتر، مالیاتی کمپنیاں اور منی چینجرز کی تعداد 11، 71، 17 اور 74 تک پہنچ گئی۔ اسی طرح مجموعی تعداد 173 تک پہنچ گئی۔

دسمبر 2023 کے آخر تک متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے بینکوں کے اے ٹی ایمز کی کل تعداد 4,654 تک پہنچ گئی۔

ترجمہ: ریاض خان