ابوظبی، 19 مارچ، 2024 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات اور ورلڈ سینٹرل کچن نے اعلان کیا ہےکہ انہوں نے غزہ کے لیے سمندری راستے سے خوراک کی امداد کی ترسیل کو کامیابی سے مکمل کیا اور اسے شمالی غزہ تک پہنچایا۔ مشن - آپریشن صفینا - اوپن آرمز کے ساتھ شراکت میں اور قبرص کی حکومت کے تعاون سے قبرص سے روانہ ہوا اور غزہ کے ساحل کے بالکل قریب لنگرانداز ہوا۔ یہ اکتوبر کے بعد غزہ کو خوراک کی امداد کی پہلی سمندری ترسیل ہے۔
عالمی فوڈ پروگرام کے قافلے کے تعاون سے آج صبح شمالی غزہ کو خوراک کی امداد پہنچائی گئی جس میں تیارکھانے ڈبلیو سی کے شامل تھے۔ متحدہ عرب امارات کی وزیر مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم ابراہیم الہاشمی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ورلڈ سینٹرل کچن ایرن گور نے کہاکہ ہم اوپن آرمز کے ساتھ اس مضبوط شراکت داری اور اس تازہ ترین کوشش کو کامیاب بنانے میں حکومت قبرص کے تعاون کے شکر گزاار ہیں۔ غزہ تک سمندری راستے سے خوراک لانا ایک اہم اور طویل التواء قدم ہے۔
خوراک اور پانی ایک عالمی حق ہے۔ غزہ کی سنگین انسانی صورت حال کے لیے بڑے پیمانے پر سمندری، ہوائی اور زمینی راستے سےامداد کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اضافی بحری خوراک کی امداد کی فراہمی کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس چیلنج سے فوری طور پر نمٹنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں ۔ اس پہلی سمندری ترسیل میں تقریباً 200 ٹن چاول، آٹا اور پروٹین شامل تھے۔ مزید 240 ٹن غذائی امداد لارناکا، قبرص کی بندرگاہ سے غزہ کے لیے دوسری کشتی کے لیے تیار ہے۔
اکتوبر سے لے کر ڈبلیو سی کےاور شراکت داروں نے غزہ میں 39 ملین سے زیادہ کھانے پیش کیے ہیں اور مختلف چیلنجوں اور ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مسلسل ڈھال رہے ہیں ۔ ڈبلیو سی کےکی کوششیں غزہ میں این جی او کی طرف سے فراہم کی جانے والی انسانی امداد کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ ہیں۔ متحدہ عرب امارات نےغزہ کو اب تک 216 پروازوں، 10 ایئر ڈراپس، 964 ٹرکوں اور دو جہازوں کے ذریعے خوراک، پانی اور طبی اشیاء سمیت 21,000 ٹن فوری سامان پہنچایا ہے۔
ترجمہ: ریاض خان