یونین ایسوسی ایشن برائے انسانی حقوق کی جانب سے دنیا بھر میں امن اور بقائے باہمی کو فروغ دینے کے لیے متحدہ عرب امارات کے صدر کو ایک رہنما اور رول ماڈل کے طور پر سراہاگیا

جنیوا، 3 اپریل، 2024 (وام) ۔۔ یونین ایسوسی ایشن برائے انسانی حقوق (یو اے ایچ آر) نے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کو دنیا بھر میں امن اوربقائے باہمی کو فروغ دینے کے لیے ایک رہنما اور رول ماڈل کے طور پر سراہا ہے۔یو اے ایچ آر نے عالمی سطح پر انسانی بھائی چارے کے اصولوں کو فروغ دینے کے لیے متحدہ عرب امارات کی کوششوں کو آگے بڑھانے اور امن اور بقائے باہمی کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر اس کی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں عزت مآب کے کردارکی بھی تعریف کی ہے۔

یو اے ایچ آر کی جانب سے یہ بیان یو اے ایچ آر کی صدر ڈاکٹر فاطمہ خلیفہ الکعبی نے نسل پرستی اور نسلی امتیاز کے خلاف جنگ سے متعلق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ایجنڈے کے آٹھویں آئٹم اور ڈربن ڈیکلریشن اورپروگرام آف ایکشن( ڈی ڈی پی اے) پر عملدرآمد کے حوالے سے جنیوا میں منعقدہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 55ویں اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے دیا۔

عزت مآب کی کوششوں کے تحت بیان میں بتایا گیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 34 ممالک کی حمایت کے ساتھ متفقہ طور پرایک قرارداد منظورکی جس میں ہرسال 4 فروری کو انسانی بھائی چارے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

یہ عالمی دن الازہر کے شیخ ڈاکٹر احمد الطیب اورکیتھولک چرچ کے سربراہ،پوپ فرانسس کی جانب سے ابوظہبی میں صدرعزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی سرپرستی اور موجودگی میں 4فروری 2019 کو عالمی امن اوربھائی چارے کے لیے انسانی بھائی چارے سے متعلق دستاویزپر دستخط کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔

الکعبی نے نسل پرستی اورنسلی امتیاز کا مقابلہ کرنے،رواداری اور بقائے باہمی کی اقدار کو فروغ دینے اور نفرت انگیز تقاریر کو مسترد کرنے کے لیے کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ریاستوں کے عزم کا جائزہ لینے اور اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کی پیمائش کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

یو اے ایچ آر نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے نسل پرستی اور اس سے منسلک نسلی امتیازکے خاتمے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو فروغ دینے کا مطالبہ کیا جو انسانی اقدار اوراصولوں سے متصادم ہے۔

یو اے ایچ آر نے امن، رواداری اور ثقافتی تنوع کو فروغ دینے میں یو اے ای کی مثال پر عمل کرنے کی اہمیت پرزور دیا۔ متحدہ عرب امارات 200 سے زیادہ قومیتوں کے افراد کا ایک ماڈل ہے جو ہم آہنگی سے ایک ساتھ رہتے ہوئے انصاف،مساوات اور منصفانہ مواقع حاصل کررہے ہیں۔ملک کے وسیع وژن کا مقصد عالمی امن،رواداری اور انسانی بقائے باہمی کو قائم کرنا ہے، ایک ایسے عالمی ماحول کو فروغ دینا جو امتیازی سلوک سے پاک، انصاف اور مساوات کو برقرار رکھے۔


ترجمہ۔تنویرملک