ایتھنز، 25 اپریل 2024 (وام) - جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی (جی سی اے اے) کے ڈائریکٹر جنرل سیف محمد السویدی نے سول ایوی ایشن سیکٹر کے مستقبل کے بارے میں بین الاقوامی مذاکرات میں شرکت کے لیے متحدہ عرب امارات کے عزم کو اجاگر کیا۔
السویدی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات پائیدار ترقی کے عالمی اہداف اور اگلے پچاس سالوں کے لیے ملک کے قومی تصورات اور اہداف کے مطابق، ماحول دوست ہوا بازی کے نظام کو فروغ دینے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کا بڑا حامی ہے۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے 18 اور 19 اپریل کو یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں گرین ایئرپورٹس کے حوالے سے ہونے والے انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) کے سیمینارسے کیا، سیمینارکا مقصد پائیدار ایوی ایشن فیولز (ایس اے ایف)، لوئر کاربن ایوی ایشن فیولز (ایل سی اے ایف) اور پائیدار انفراسٹرکچر سمیت ایوی ایشن کے دیگ کلینر انرجی پر خصوصی توجہ کے ساتھ ایئرپورٹس پر توانائی کی منتقلی کو فعال کرنے کے لیے تمام فریقین کے لیے آگاہی کو فروغ دینا تھا۔
کانفرنس میں دنیا بھر کے ہوائی اڈوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے حوالے سے درپیش اہم چیلنجز پرتبادلہ خیال کیا گیا، ان چیلنجز میں ہوائی اڈے کے آپریشنز پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی پیش گوئی کرتے ہوئے مناسب حکمت عملی وضع کرنا، سرمایہ کاری اور ہوابازی ایندھن میں آنے والی تبدیلیوں کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے انفراسٹرکچر کو بڑھانا شامل ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے کانفرنس کے دوران "پائیدار ایوی ایشن فیولز (ایس اے ایف)، لوئر کاربن ایوی ایشن فیولز (ایل سی اے ایف)اوردیگر ایوی ایشن کلینر انرجی " کے عنوان سے ہونے والے اہم سیشن کا اہتمام کیا،جس کی میزبان آئی سی اے اوICAO کونسل کی ماحولیاتی تحفظ کمیٹی کی نائب صدر،عرب سول ایوی ایشن کمیشن کی ماحولیاتی کمیٹی کی سربراہ اوریو اے ای میں ہوا بازی شعبے کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے لیے چیف مذاکرات کار مریم البلوشی تھیں۔
سیشن میں ایندھن کی پیداوار میں سہولت فراہم کرنے اور آب و ہوا اور ماحولیاتی مذاکرات میں ہوا بازی شعبے کو درپیش بڑے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہوائی اڈوں کے لیے حکمت عملیوں کا جائزہ لیا گیا۔اس کے دوران بین الاقوامی مینڈیٹ کا بھی جائزہ لیاگیا جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر ماحول کے لیے نقصان دہ گیسوں کے اخراج کو کم کرنا ہے۔
مختلف شعبوں کے صنعتی شراکت داروں، بشمول ایئر لائنز، پروڈیوسر، ایئرپورٹس ، اور آئی سی اے او کے اراکین نے متعلقہ چیلنجز کے حوالے سے ہونے والی بحث میں حصہ لیا۔