رازان خلیفہ المبارک کی زیرصدارت IUCN کی کونسل کا 111واں اجلاس سوئٹزرلینڈ میں شروع

گلینڈ، سوئٹزرلینڈ، 16 مئی، 2024 (وام) ۔۔ بین الاقوامی یونین برائے تحفظ فطرت (IUCN) کی کونسل کا 111واں اجلاس رازان خلیفہ المبارک کی زیرصدارت جمعرات کو سوئٹزرلینڈ کے شہر گلینڈ میں شروع ہوگیا۔
رازان خلیفہ المبارک کو 2021 میں (IUCN) کی چار سالہ مدت صدارت کے لیے منتخب کیا گیا تھا وہ IUCN کی دوسری اور عرب دنیا کی پہلی خاتون صدر ہیں
تین روزہ اجلاس میں المبارک کا کردار کونسل اجلاس طلب کرنا،، بحث میں مدد فراہم کرنا ،IUCNممبران کی نمائندگی کرتے ہوئے اتفاق رائے پیدا کرنے میں مدد کرنا ہے۔
ایجنڈے میں (IUCN) کے 20 سالہ وژن کا مسودے جیسے اسٹریٹجک اہمیت کے موضوعات شامل ہیں۔ جس پر IUCN کے اراکین نظرثانی کرتے ہوئے اپنی رائے دیں گے۔
المبارک نے کہا کہ 20 سالہ سٹریٹجک وژن میں جانداروں کی انواع کی بقا اور آب و ہوا کے لیے بے مثال چیلنجزکا اعتراف کیا گیاہے جو آج پہلے ہی تکلیف دہ طور پر واضح ہیں۔پیرس معاہدے کے ذریعہ طے شدہ 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ ہدف کا حصول غالباً دورہے۔ ماہرین تحفظ اس بات سے آگاہ ہیں کہ ان کا کام زیادہ چیلنجنگ بلکہ زیادہ اہم بھی ہوگا۔ پھر بھی، ہم چیلنج کا مقابلہ کرتے ہیں اور ایک منصفانہ دنیا کو فروغ دینے میں مدد کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کریں گے جو فطرت کی قدر اور تحفظ کرتی ہے۔
کونسل 2026 سے 2029 کی مدت کے لیے IUCN کے ابتدائی ڈرافٹ پروگرام کا بھی جائزہ لے گی۔ یہ پہلا مرحلہ ہوگا کیونکہ IUCN چار سالہ منصوبے کا حتمی ورژن تیار کررہا ہے، جس پر اراکین ووٹ ڈالیں گے اور اسے منظور کیا جائے گا۔ IUCN 2025 ورلڈ کنزرویشن کانگریس اگلے سال 9 سے 15 اکتوبر تک ابوظہبی میں ہوگی۔ ہر چار سال بعد منعقد ہونے والی کانگریس میں سرکاری اداروں، سول سوسائٹی، مقامی افراد، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کے نمائندے شرکت کرتے ہیں۔
المبارک نے کہاکہ عالمی تحفظ کی کوششوں کے لیے کانگریس کی اہمیت کے علاوہ، یہ میزبان ممالک کو اپنی حیاتیاتی تنوع اور ورثے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی قیادت پیش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے یہ دوسری بار ہے کہ کانگریس مشرق وسطیٰ میں منعقد ہوگی۔
IUCN 2025 ورلڈ کنزرویشن کانگریس بھی اس ہفتے گلینڈ میں جاری اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے ۔
جمعرات کو اجلاس میں مندوبین نے رواں سال کے آخر میں ماحولیات سے متعلق اقوام متحدہ کے تین بڑے عالمی پروگرامز کے دوران IUCN کی پوزیشننگ پر تبادلہ خیال کیاان میں حیاتیاتی تنوع کے کنونشن کے لیے فریقین کی کانفرنس (کوپ) کا 16 واں اجلاس، اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس 2024 (کوپ29)،اور اقوام متحدہ کے کنونشن ٹو کمبیٹ ڈیزرٹیفیکیشن کا اجلاس کوپ16 شامل ہیں۔
المبارک کے مطابق ان کانفرنسز کے دوران،IUCN اس خیال کی حمایت کرے گا کہ فطرت پر مبنی حل جیسا کہ جنگلات کی کٹائی کو تبدیل کرنا، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور کھیتوں کے انتظام وانصران کو بہتر بنانا سے تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ فطرت پر مبنی حل نہ صرف حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑے خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہیں بلکہ آفات کے خطرے میں کمی، خوراک اور پانی کی حفاظت اور صحت عامہ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے بھی ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس فطرت پر مبنی حل کے ذریعے ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے طریقے موجود ہیں جو ماحولیاتی اورانسانی فلاح و بہبود دونوں میں اضافہ کرتے ہیں
المبارک نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں کوپ28 میں، بین الاقوامی برادری نے ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے میں حیاتیاتی تنوع اور فطرت کے ناگزیر کردار کو تسلیم کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کوپ 28 میں کیے گئے وعدے، بشمول 2030 تک جنگلات کی کٹائی کو روکنا اور جنگلات اور ساحلی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے2ارب 70کروڑ ڈالر کا وعدہ، ہماری مشترکہ کوششوں میں ایک اہم قدم کی نمائندگی کرتے ہیں اور یہ ضروری ہے کہ یہ نقطہ نظر کوپ29 اور اس کے بعد بھی برقرار رہے۔