منامہ، 16 مئی، 2024 (وام) ۔۔ نائب صدر،وزیر اعظم اوردبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے نائب صدر، نائب وزیراعظم،اورصدارتی عدالت کے چیئرمین عزت مآب شیخ منصوربن زاید النہیان کے ہمراہ بحرین کے شہر منامہ میں جمعرات سے شروع ہونے والے عرب لیگ کے 33ویں سربراہی اجلاس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی۔سربراہی کانفرنس میں عرب لیگ کے 22 رکن ممالک کے رہنما اور نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔
سربراہی اجلاس کے مرکزی مقام الصخيرپیلس پہنچنے پر بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ نے ان کا استقبال کیا۔ شاہ حمد نے شیخ محمد کے عرب تعاون کو فروغ دینے اور خطے کے عوام کو درپیش چیلنجوں پر قابو پانے میں مدد کے لیے سربراہی اجلاس کے مقاصد کے لیے ان کی حمایت کے عزم کو سراہا جس سے ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
شیخ محمد بن راشد نے بحرین کے بادشاہ کو عرب لیگ کے33ویں سربراہی اجلاس کے غیرمعمولی انتظامات کرنے پر مبارکباد دی اورانکی قیادت میں بحرین کی مسلسل ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ایسے وقت میں جب غزہ میں طویل بحران کی وجہ سے انسانی صورتحال مزید خراب ہورہی ہے ،عرب لیگ کے سربراہی اجلاس میں مسئلہ فلسطین کی مرکزی حیثیت کے ساتھ عزت مآب شیخ محمد نے فلسطینی کاز کے لیے متحدہ عرب امارات کے ثابت قدم عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے عالمی قوانین اور قراردادوں کے مطابق فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے اپنے ملک کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
عزت مآب نے غزہ کے لیے امداد پہنچانے کی عالمی کوششوں میں متحدہ عرب امارات کے اہم کردار پر بھی زور دیا۔ انہوں نے فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کے حق میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کے حالیہ سفارتی سنگ میل کو بھی سراہا۔
عرب دنیا کے رہنماعرب لیگ کے 33ویں سربراہی اجلاس میں شریک ہیں تاکہ رکن ممالک کے درمیان تعاون اور انضمام کو مضبوط بنانے کے مقصد سے اجتماعی کوششوں کے ایک نئے مرحلے کو شروع کرنے پر غور کیا جا سکے۔ رہنماوں نے عرب عوام کی امنگوں کی حمایت کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے جامع پائیدار ترقی کے نئے دور کے آغاز پر غور کیا جو پورے خطے میں استحکام، ترقی اور خوشحالی کو فروغ دے گا۔
سربراہی اجلاس میں عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغيط،اور اقوام متحدہ (یو این) کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی شرکت کی۔
سربراہی اجلاس کے افتتاحی موقع پر سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے کلیدی خطاب کیا۔شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ 2023 میں سعودی عرب میں منعقدہ عرب لیگ کے 32 ویں سربراہی اجلاس میں اہم عرب مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مشترکہ عرب ایکشن کو مضبوط بنانے، علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر مشترکہ موقف وضع کرنے پر توجہ دی گئی، جن میں سب سے اہم مسئلہ فلسطین ہے۔ شہزادہ محمد نے کہا کہ مملکت سعودی عرب علاقائی سلامتی، امن اور خوشحالی کے لیے پرعزم ہے اور تنازعات کے پرامن حل کی حامی ہے۔
عرب لیگ کے 33ویں سربراہی اجلاس کے سربراہ بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ سربراہی اجلاس عرب دنیا کی تاریخ کے نازک دور پر ہو رہا ہے۔انہوں نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد پر زور دیا۔ انہوں نے خطے میں ایک حتمی اور منصفانہ امن کے قیام کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ امن کی جنگ میں انسانیت کی فتح اور کامرانی ہونی چاہیے۔
انہوں نے عرب قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے پیش نظر مشترکہ عرب کوششوں کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دہا۔ شاہ حمد نے استحکام اور ترقی کا ایک نیا دورشروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو عرب دنیا کو موجودہ دور کے تقاضوں کو سمجھنے اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے قابل خطے کے طور پر اس کی جائز امنگوں کو پورا کرے۔
سربراہ کانفرنس میں عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس، افریقی یونین کمیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر دلامينی زوما اور تنظیم کے سیکرٹری جنرل حسین ابراهيم طه کے کلیدی خطابات کے بعد سربراہی اجلاس میں شریک قائدین اور عزت مآب رہنماوں نے اظہار خیال کیا۔
اس سے عزت مآب شیخ منصور بن زاید النہیان کے ہمراہ بحرین آمد پرعزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کا بحرین کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ اور کئی سینئرحکام نے استقبال کیا۔
ترجمہ۔تنویرملک