متحدہ عرب امارات کا اسرائیل فلسطین تنازعہ کے حل کیلئےجامع اسٹریٹجک نقطہ نظر کی ضرورت پر زور

عمان،11جون، 2024 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات نے تصدیق کرتے ہوئےکہا ہےکہ غزہ کے انسانی بحران سے نمٹنے اور فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے کے لیے اسرائیل فلسطین تنازعہ کے حل کو یقینی بنانے کے لیے ایک ایساجامع اسٹریٹجک نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے جس سے دو ریاستی حل اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے ذریعےتشدد، نفرت اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہو اور فلسطینی عوام کی تمام جائز خواہشات پوری ہوں۔

اردن کے بحیرہ مردار کے علاقے میں شاہ حسین بن طلال کنونشن سینٹر میں غزہ میں ہنگامی امداد سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کے اختتام پر بیان میں متحدہ عرب امارات نے کانفرنس کے انعقا د پر اردن کے شاہ عبداللہ دوم بن الحسین، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا شکریہ ادا کیا۔

یہ کانفرنس غزہ کی پٹی میں آٹھ ماہ سے جاری تباہ کن اسرائیلی جنگ کے دوران بلائی گئی ہے جس میں اب تک 36,000 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

اس جنگ میں 80,000 کے قریب فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔ اس جنگ کے باعث غزہ کی 78 فیصد سے زیادہ آبادی بے گھر ہوگئی ، صحت کی دیکھ بھال کانظام تباہ ہوگیا اورقحط اور بیماریوں کاپھیلاؤ تیز ہوگیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تباہی کے ذمہ دار فریق کی حیثیت سے ہم اسرائیل سے تمام فوجی سرگرمیاں فوری طور پر بند کرنے، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی مکمل تعمیل، بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے فیصلوں پر عمل پیرا ہونے اور امداد کی بلا روک ٹوک اور پائیدار فراہمی پرزور دیتے ہیں۔ اس بحران کے آغاز سے متحدہ عرب امارات کئی غیر متزلزل ترجیحات پر کاربند رہا ہے۔

ان ترجیحات میں اول فوری جنگ بندی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق شہریوں کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانا۔ دوم غزہ میں فلسطینی عوام کو بغیر کسی رکاوٹ یا پابندی کے انسانی امداد کی محفوظ، فوری اور پائیدار ترسیل کو یقینی بنانا۔

تیسرا فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے زبردستی بے گھر کرنے کی تمام کوششوں کو یکسر مسترد کرنا اور چوتھا جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کو بڑھانا اور متحد کرنا اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک واضح روڈ میپ تک پہنچنا شامل ہیں۔

صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایات اورمتحدہ عرب امارات کے غیر متزلزل انسانی عزم کے مطابق متحدہ عرب امارات نے بحران کے شروع سے ہی غزہ کے لوگوں کو فوری ریلیف اور غذائی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کئی اقدامات شروع کیے جن میں سرفہرست 'گیلنٹ نائٹ 3' آپریشن ہے جس کے ذریعے متحدہ عرب امارات نے غزہ کو 33,000 ٹن فوری امداد فراہم کی۔

اس میں خوراک، طبی امداد اور پناہ گاہیں شامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے مصری بندرگاہ العریش پر سمندر میں تیرتے ہوئے ہسپتال کے ساتھ ساتھ جنوبی غزہ میں ایک فیلڈ ہسپتال بھی قائم کیا ہے جس نے اب تک اجتماعی طور پر 27,000 زخمی فلسطینیوں کو طبی امداد فراہم کی ہے۔

متحدہ عرب امارات اپنے ہسپتالوں میں 1,000 بچوں اور 1,000 کینسر کے مریضوں کو طبی علاج فراہم کرنے کے لیے بھی پرعزم ہے۔

ان میں مریضوں اور ان کے ساتھ نگہداشت کرنے والوں کے تمام متعلقہ اخراجات برداشت کیے جاتے ہیں۔ پانی اور خوراک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متحدہ عرب امارات نے غزہ میں 600,000 فلسطینیوں کی مدد کے لیے 1.2 ملین گیلن یومیہ کی صلاحیت کے ساتھ چھ پانی صاف کرنے کے پلانٹ قائم کیے ہیں۔ مزید برآں 72,000 سے زائد افراد کی روز مرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پانچ خودکار بیکریاں قائم کی گئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات غزہ کے لیے سب سے بڑا انسانی امداد فراہم کرنے والا ملک بن گیاہے۔

متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2720 (2023) پیش کی جس میں غزہ کی پٹی میں انسانی امداد بڑھانے اورامدادی کارکنوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

غزہ میں موجود ملازمین اور انسانی ہمدردی کے کام کرنے والے کارکنان اور غزہ کے لیے اقوام متحدہ کے سینیئر ہیومینٹیرین اور ری کنسٹرکشن رابطہ کارکا عہدہ قائم کرنا شامل ہے۔اس تناظر میں ہم غزہ میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے کاگ کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور ہم تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ غز ہ میں فلسطینی عوام کے لیے فوری انسانی امداد کے بہاؤ کو بڑھایا جائے۔

متحدہ عرب امارات نے کہا کہ اس مرحلے پر سب سے زیادہ ترجیح غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کو یقینی بنانا ہے۔ اس تناظر میں متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز کو سراہتے ہوئے غزہ کی پٹی میں جنگ کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی قدر کو تسلیم کرتے ہوئے ان تجاویز کے ساتھ سنجیدہ اور مثبت مشغولیت کی ضرورت پر زور دیا۔

متحدہ عرب امارات قطر اور مصر کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کے لیے اپنی حمایت اور تعریف کا اعادہ کرتا ہے۔ بیان کے آخر میں متحدہ عرب امارات نے شاندار مہمان نوازی اور گرمجوشی سے استقبال کرنے پر اردن کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔