اے آئی ریٹریٹ 2024 میں دبئی کی اے آئی انٹرپرینیورشپ پراہم تبادلہ خیال

دبئی، 11 جون، 2024 (وام )۔۔ مضبوط حکومتی تعاون اور اے آئی جدت کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئےجدید ریگولیٹری فریم ورک پر مبنی دبئی کے سٹارٹ اپ ایکو سسٹم نے اے آئی ریٹریٹ 2024 میں مرکزی حیثیت حاصل کی۔

دبئی کے ایمریٹس ٹاورز میں میوزیم آف دی فیوچر اورایریا 2071 کی میزبانی میں ہونے والے اس ایونٹ میں بصیرت انگیز پینل مباحثوں کا انعقاد کیا گیا۔

"From Dubai to the World: Scaling Local Unicorns،" کے عنوان سے ہونے والے پہلے سیشن میں میڈیا ڈاٹ نیٹ کے بانی اور کاروباری شخصیت دیو یانک توراخیا، کیٹوپی کے شریک بانی اور سی ای او محمد بلوط،اورفارفیچ کے بانی مارٹن ایوتیسیان نے دبئی کے کاروباری منظر نامے کے اندرقابل ذکر مواقع کو پیش کیا گیا۔

پینلسٹس نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ کس طرح اے آئی کاروباری ترقی میں بہتری اوردبئی کے کاروباری منظر نامے کے اندر پیداواری صلاحیت میں اضافے میں اہم کردارادا کر رہا ہے۔

توراخیا نے دبئی کے معاشرے اورگورننس میں ٹکنالوجی کے وسیع پیمانے پر استعمال پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے اے آئی کو بروئے کار لانے اور اس پر عمل درآمد میں ایک عالمی رہنماقراردیا۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے شہر اور ملک تیزی سے اے آئی کو اپنا اور سروس کے معیار کو بڑھانے کے لیے اسے روزمرہ کی زندگی میں ضم کر رہے ہیں،لو گ اے آئی سے زیادہ سے زیاد واقف ہوتے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ دبئی کس طرح ترقی پسند حکومتی پالیسیوں کے ذریعے نئے آئیڈیاز اور ٹیکنالوجیز کے لیے ایک متحرک سینڈ باکس کے طور پر کام کررہا ہے۔

بلوط نے دبئی کے سٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے اندرتیزی سے اسکیل اپ کو سہولت فراہم کرنے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے اہم کردار پر زور دیتے کہا کہ مضبوط نجی عوامی شراکت داری ہماری تیز رفتار اور پائیدار ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔

انہوں نے مخصوص صنعتوں میں اے آئی کے عملی اطلاق کے حوالے سے کہا کہ اگرچہ اے آئی ٹیکنالوجیز تک رسائی آسان ہے، لیکن اصل چیلنج ان سے اہم قدر حاصل کرنا ہے۔ اس کے لیے نہ صرف رسائی کی ضرورت ہے بلکہ مخصوص کاروباری ضروریات اور نتائج کو پورا کرنے کے لیے اے آئی ماڈلز کو تیار کرنے کے لیے مہارت کی بھی ضرورت ہے۔

ایوتیسیان نے اداروں میں اے آئی انضمام کے لیے ایک فعال نقطہ نظر کی اہمیت پرزور دیتے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہائبرڈ اے آئی مستقبل ہےاور ہم نتائج کو بہتر بنانے میں اس کے موثر ہونے کا پہلے ہی مشاہدہ کرچکے ہیں۔

تنظیموں کے لیے پیغام ہے کہ وہ عملدرآمد کی طرف آئیں۔ پائلٹس کے ساتھ شروع کریں، اندرونی طور پر کیے گئے ثبوت کے تصورات کے ذریعے سیکھیں اور اپنی تنظیم کی منفرد ضروریات کے مطابق اے آئی کو تیار کریں۔

انہوں نے اعداد و شمار کے تجزیات میں بگ لینگویج ماڈلز (ایل ایل ایمز) کی صلاحیت کے حوالے سے پیش گوئی کی کہ سرکاری اور نجی دونوں ادارے زیادہ سے زیادہ اے آئی ٹیکنالوجیز کو عام کرنے کے لیے حسب ضرورت اے پی آئیز پر انحصار کریں گی۔

دبئی کے ولی عہد، دبئی کی ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین اور دبئی فیوچر فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین عزت مآب شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم کی سرپرستی میں اے آئی ریٹریٹ2024 کا انعقاد کیا گیا۔

اس ایونٹ میں 1ہزارسے زیادہ فیصلہ سازوں، ماہرین، سرکاری اور نجی شعبوں کے عہدیداروں اور عالمی ٹیک کمپنیوں نے شرکت کی۔

شرکاء نے پالیسیز اور قانون سازی، گورننس، ٹیلنٹ ایکو سسٹم، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اوراے آئی ڈیٹا سینٹرز کے حوالے سے اہم اے آئی ترقی کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔