ابوظہبی، 11 جون، 2024 (وام) ۔۔ شماریات مرکز- ابوظہبی (SCAD) کے اعدادوشمار کے مطابق ابوظہبی کی آبادی 37لاکھ 89ہزار860 نفوس تک پہنچ گئی ہے۔ مکمل طور پر انتظامی رجسٹرزپر کی گئی ابوظہبی مردم شماری 2023 کے ابتدائی نتائن کے مطابق ابوظہبی کی آبادی میں 2011 کے مقابلے میں 83 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق امارت میں مردوں کی تعداد 25لاکھ 41ہزار465 ہے جو کل آبادی کا 67 فیصد ہیں جبکہ خواتین کی کل تعداد12لاکھ 48ہزار395 ہے جو امارت کی کل آبادی کا 33 فیصد ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق امارت میں آبادی کی وسط عمر33 سال ہے۔
جاری اعداد و شمار کے مطابق24لاکھ 95ہزار925 افراد پر مشتمل ابوظہبی کا خطہ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا علاقہ ہے جو امارات کی کل آبادی کے 66 فیصد کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے بعد العین کا علاقہ ہے، جس کی آبادی10لاکھ 9ہزار735 افراد پر مشتمل ہے، جو ابوظہبی کی کل آبادی کا 27 فیصد جبکہ الظفرہ ریجن کی آبادی2لاکھ 84ہزار205 افراد پر مشتمل ہے جو کل آبادی کا سات فیصد ہے۔
معاشی نمو اور علم پر مبنی معیشت سے وابستہ ابوظہبی میں 2011 سے روزگار سے وابستہ آبادی میں 82 فیصد کا خاطر خواہ اضافہ ہواہے، جس سے مجموعی روزگار افراد کی تعداد25لاکھ 22ہزار390تک پہنچ گئی ہے۔
ملازم افرادی قوت کا 46 فیصد وائٹ کالر ورکرزپر مشتمل ہے اس کیٹیگری میں 2011 کے بعد سے 109 فیصد اضافہ ہوا جبکہ 54 فیصد بلیو کالر ورکرزمیں 2011 کے مقابلے میں 65 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار ابوظہبی میں افرادی قوت کے تنوع میں ایک متحرک توسیع کی نشاندہی ہے۔
اس کے علاوہ، ابوظہبی میں 2011 سے اب تک رہائشی اور غیر رہائشی یونٹس کی تعداد میں 66 فیصد اضافہ ہوا ہے جن کی کل تعداد7لاکھ 54ہزار555 ہے۔ان میں سے 58 فیصد کے ساتھ رہائشی یونٹس کی تعداد 441,410 ہے، جبکہ 42 فیصد کے ساتھ غیر رہائشی یونٹس کی تعداد 313,145 ہے۔
محکمہ سرکاری اہلیت - ابوظہبی کے چیئرمین اور مردم شماری کمیٹی کے چیئرمین احمد تميم هشام الكتاب نے ابوظہبی کے ولی عہد اور ابو ظہبی ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین عزت مآب شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کی ابوظہبی مردم شماری 2023 کی کامیاب تکمیل میں اہم معاونت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی مردم شماری ہے جس میں مکمل طور پر انتظامی ریکارڈ پر انحصار کیا گیا ہے۔
الكتاب نے کہا کہ مردم شماری آبادی کی تعداد،افراد کی خصوصیات اور جغرافیائی تقسیم پر جدید اور حقیقی وقت کا ڈیٹا بیس فراہم کرتی ہے۔ یہ خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور ابوظہبی میں جامع ترقیاتی منصوبوں کی حمایت کے لیے قومی کوششوں کو تقویت دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
شماریاتی مرکزابوظہبی(SCAD) کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل عبدالله غريب القمزی نےSCAD کے امارت میں جامع اسٹریٹجک تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے عزم پرزوردیتے کہا کہ ادارہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے وقف ہے کہ شماریاتی نظام امارت میں ڈیجیٹل تبدیلی کے اہداف سے ہم آہنگ ہو۔ اس میکانزم کے ستونوں میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی، اختراعی حل کا استعمال، مصنوعی ذہانت کی تکنیک کا استعمال اور مردم شماری کے لیے بہترین تکنیکی طریقوں کی پابندی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ متعلقہ سرکاری اداروں کے تعاون سے،SCAD اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کے انتظامی ریکارڈ کو شماریاتی ڈیٹا کے ساتھ منسلک اور ضم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس سے مردم شماری کے نتائج کے معیار اور جامعیت کو یقینی بنانے میں اہم مدد ملی ہے۔
معلومات کی حفاظت کے حوالے سے،انہوں نے ڈیٹا گورننس کے لیے اعلیٰ درجے کے معیارات کو بروئے کار لانے کے لیے SCAD کے عزم کی توثیق کی تاکہ ایک مربوط شماریاتی ماحولیاتی نظام کے ذریعے رازداری اور رازداری کی بلند ترین سطح کو یقینی بنایا جا سکے۔
شماریات کا مرکز - ابوظہبی امارت میں شماریاتی امور کے تمام پہلوؤں کو یکجا اور منظم کرکے ایک مربوط اور جدید شماریاتی نظام تیار کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس میں تمام سرگرمیوں اور شعبوں کے لیے شماریاتی فریم ورک بنانا اور تیار کرنا، انہیں وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کرنا اور تکنیکی نگرانی فراہم کرنا شامل ہے۔
ابوظہبی مردم شماری 2023 کے نتائج یہاں دیکھے جا سکتے ہیں: https://census.scad.gov.ae