ابوظہبی، 30 جولائی، 2024 (وام) -وزیر مملکت برائے تجارت خارجہ ڈاکٹر ثانی بن احمد آل زیودی نے کہا ہے کہ چلی کے ساتھ جامع اقتصادی شراکت داری کا معاہدہ چھ ماہ کے اندر نافذ العمل ہو جائے گا۔
ایمریٹس نیوز ایجنسی (وام) کو دیے گیے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے گزشتہ تین برسوں میں طے پانے والا گیارھواں معاہدہ ہے۔
پیر کے روز وزارت کی جانب سے منعقد ہونے والی ایک گول میز کانفرنس میں چلی کے وفد کے ساتھ بات چیت کے دوران وزیر مملکت نے بتایا کہ اس معاہدے سے 2031 تک اماراتی معیشت کو 73 ملین ڈالر سے زائد کا اضافی فائدہ ہو گا اور چلی کو برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔
ڈاکٹر ثانی کے مطابق اس معاہدے کی سب سے اہم بات دونوں فریقین کی جانب سے 99 فیصد سے زائد لبرلائزیشن کی سطح ہے۔ خاص طور پر سروسز کے شعبے میں لبرلائزیشن کی اہمیت بہت زیادہ ہے جو دونوں ممالک میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کلید ہے۔ مزید برآں، پہلی بار معاشی اور تجارتی شعبوں میں خواتین کو بااختیار بنانے پر مرکوز ایک خصوصی باب بھی شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپلائی چینز پر ایک جامع باب شامل کیا گیا ہے جو موجودہ عالمی بحرانوں اور جغرافیائی سیاسی حالات کے پیش نظر ان کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
چلی کے وزیر خارجہ البرٹو وان کلاویرین نے بھی اس موقع پر کہا کہ جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدہ کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دینا اور متحدہ عرب امارات اور چلی دونوں کے سرمایہ کاروں کے لیے بے شمار مواقع پیدا کرنا ہے۔