شارجہ، 30 جولائی، 2024 (وام)-- جاری سال کی پہلی ششماہی کے دوران شارجہ کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ نے غیر معمولی ترقی کا مظاہرہ کیا ہے، تجارتی حجم میں 35.6 فیصد اضافے کے ساتھ یہ 18.2 ارب درہم تک پہنچ گیا ہے۔
اس اضافے کی سب سے بڑی وجہ فروخت کے لین دین میں اضافہ ہے، جو امارات کی پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
شارجہ رئیل اسٹیٹ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق، 2023 کی اسی مدت کے مقابلے میں مجموعی رئیل اسٹیٹ لین دین میں 13.8 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو 46,524 تک پہنچ گیا۔ 192 علاقوں میں فروخت کے لین دین ہوئے، جن میں شارجہ شہر سر فہرست رہا۔ رہائشی اراضی، اپارٹمنٹس اور بلٹ ان لینڈز ککی خرید و فروخت زیادہ ہوئیہے۔ اس دوران سات نئے رئیل اسٹیٹ منصوبوں کا آغاز بھی کیا گیا، جس سے مارکیٹ کی کشش میں مزید اضافہ ہوا۔
شارجہ کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں 106 قومیتوں کے سرمایہ کاروں نے حصہ لیا، جن میں اماراتی شہری سرمایہ کاری میں سرفہرست رہے۔ یہ شاندار کارکردگی شارجہ کی کامیاب اقتصادی حکمت عملیوں، متنوع معیشت اور پرکشش سرمایہ کاری کے ماحول کو اجاگر کرتی ہے۔
شارجہ رئیل اسٹیٹ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل، عبدالعزیز احمد الشمسی نے زور دے کر کہا کہ "رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ریکارڈ کی گئی قابل ذکر پیشرفت امارت میں جامع اور مسلسل معاشی ترقی کا لازمی حصہ ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ شارجہ متنوع معیشت کے ذریعے پرکشش سرمایہ کاری کا ماحول فراہم کر کے مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر اپنی معاشی پوزیشن کو مستحکم کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ ٹھوس قانون سازی کے فریم ورک، پائیدار ترقی اور شہری ترقی کے منصوبوں کے ذریعے سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھایا جا رہا ہے۔