شارجہ، 4 ستمبر، 2024 (وام) - ایکسپو سینٹر شارجہ میں جاری بین الاقوامی حکومتی مواصلاتی فورم (آئی جی سی ایف) 2024 میں، "انفارمیشن وارز اینڈ دی پیرلز آف کمیونیکیشن گلوبلائزیشن" پر ایک اہم اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ یہ اجلاس، جو کہ متحدہ عرب امارات کی انٹیگریٹڈ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی "du" کے تعاون سے منعقد ہوا، نے متحدہ عرب امارات اور بین الاقوامی سطح کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا تاکہ وہ غلط معلومات کے بڑھتے ہوئے چیلنجز اور گلوبلائزڈ ڈیجیٹل دور میں مواصلات کی پیچیدگیوں پر تبادلہ خیال کر سکیں۔
ماہرین کے پینل میں نیشنل میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر جمال الکعبی؛ یونیورسٹی آف شارجہ کے چانسلرپروفیسر حامد النعیمی؛ سی ڈی اے سی نیٹ ورک جو کہ بحران کے دوران لوگوں کو محفوظ اور قابل اعتماد معلومات تک رسائی اور مواصلات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا ایک عالمی اتحاد ہے, کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیلن میک ایلہنی اور محمد بن راشد خلائی مرکز میں خلائی آپریشنز اور ایکسپلوریشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل انجینئر عدنان الریس شامل تھے۔ اس اجلاس کی صدارت اماراتی مصنف حسن بن ثالث نے کی۔
ڈاکٹر الکعبی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سنسرشپ اور اظہار رائے کی آزادی پر اس کے مضمرات کے بارے میں جاری بحث میں خطاب کے دوران کہاکہ، "قومی سلامتی کو یقینی بنانے اور اظہار رائے کی آزادی کے تحفظ کے درمیان ایک باریک لکیر ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں عوام کو نقصان دہ مواد سے بچانا ضروری ہے وہیں حکومت کے میڈیا نقطہ نظر میں شفافیت کو برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
انہوں نے بحران کے دوران مواصلات کے انتظام میں متحدہ عرب امارات کے فعال اقدامات کو اجاگر کیا اور کووڈ-19 وبائی بیماری کے دوران درست معلومات کی کامیاب ترسیل کا حوالہ دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ، "متحدہ عرب امارات نے ہمیشہ اپنے معاشرے کے تحفظ کو ترجیح دی ہے، اور یہ عزم وبا کے دوران واضح تھا جب ہم نے یہ یقینی بنایا کہ معاشرے کے تمام طبقات کو درست اور بروقت معلومات ملیں۔"
انہوں نے ابتدائی تعلیم میں میڈیا خواندگی کو شامل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ الکعبی نے کہاکہ، "'ہمیں اپنے شہریوں کو چھوٹی عمر سے ہی یہ سکھانا چاہیے کہ آن لائن ملنے والی معلومات کا تنقیدی جائزہ کیسے لیا جائے۔ یہ ایک باخبر عوام کی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے جو کہ غلط معلومات کے خلاف دفاع کی پہلی صف کے طور پر کام کر سکے۔"
نیشنل میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل نے نیشنل میڈیا آفس کے چیئرمین اور متحدہ عرب امارات میڈیا کونسل کے چیئرمین عبداللہ بن محمد بن بٹ الحمید کی جانب سے حال ہی میں شروع کی گئی مہم کو ایک ذاتی کوشش قرار دیا جس کا مقصد خفیہ ایجنڈے اور خریدی گئی آوازوں کو ختم کرنا ہے جو حال ہی میں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیل چکے ہیں۔
الکعبی نے مشاہدہ کیا کہ یہ مہم عوام میں معلومات کی تصدیق اور زبانی تنازعات سے گریز کرنے کی اہمیت کے بارے میں شعور اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہوئی ہے جو معاشرے میں انتشار پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے خطے کے سامنے موجود سنگین چیلنجوں کو اجاگر کیا، جن کے لیے مشترکہ آگاہی اور فہم کی ضرورت ہے تاکہ سماجی تانے بانے کو تقسیم کرنے کی کوششوں اور غلط معلومات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ڈاکٹر الکعبی کے مطابق اس مہم نے اپنی تاثیر کا مظاہرہ کیا ہے، خاص طور پر خلیجی عرب ریاستوں اور عرب ممالک کو بڑے پیمانے پر درپیش خطرات کو اجاگر کرنے میں، یہ یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایک محفوظ ماحول رہیں جو خاندانوں اور کمیونٹیز کے مفادات کی خدمت کرے، بجائے اس کے کہ وہ تقسیم اور افواہوں کی افزائش گاہ بنیں۔