شام میں بڑھتی مہنگائی اور خوراک کی قلت: ورلڈ فوڈ پروگرام کی عالمی تعاون کی اپیل

جنیوا، 12 دسمبر، 2024 (وام) --ورلڈ فوڈ پروگرام نے شام میں 28 لاکھ بے گھر اور خوراک کی کمی کے شکار افراد تک پہنچنے کے لیے اپنے آپریشنز کو وسعت دینے کے لیے فوری فنڈز کی اپیل کی ہے۔

حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں ملک بھر میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جس سے پہلے سے موجود خوراک کی قلت کا بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انسانی ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ ملک سیاسی عبوری دور سے گزر رہا ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے شام کے کنٹری ڈائریکٹر کین کراسلی نے کہاکہ، "شامی عوام کے لیے اس نازک وقت میں ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ سب سے زیادہ کمزور افراد کو وہ خوراک اور امداد ملے جس کی انہیں ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے تمام آپریشنز کو ملک بھر میں جاری رکھنے کے لیے عطیہ دہندگان کی فوری مدد درکار ہے۔ شامی عوام کے پاس اب ایک نئی شروعات کا موقع ہے، ہمیں ان کی بھوک کو اس راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔"

موجودہ بحران کے آغاز سے، ورلڈ فوڈ پروگرام نے فوری طور پر ردعمل دیتے ہوئے شام کے تقریباً 70,000 بے گھر افراد کو روزانہ تیار کھانے کے راشن، فوڈ باسکٹس اور تازہ اور گرم کھانے فراہم کیے ہیں۔ عدم استحکام اور بدامنی کے دنوں کے بعد، حمص، حلب، رقہ اور الحسکہ میں بے گھر افراد کے لیے خوراک کی تقسیم اور گرم کھانے کی خدمات بھی بحال کر دی گئی ہیں۔

تقریباً 14 سال کی جنگ نے شامی عوام کی روزمرہ زندگی کو انتہائی نازک بنا دیا ہے۔ اس سال کے آغاز میں، 1.29 کروڑ افراد خوراک کی کمی کا شکار تھے، جن میں سے 30 لاکھ شدید طور پر متاثر تھے، جبکہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے انسانی امداد میں نمایاں کمی آئی۔

اس وقت سپلائی کے راستے متاثر ہیں، خوراک کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور شامی کرنسی کی قدر مسلسل گر رہی ہے۔ چاول، چینی اور تیل جیسی ضروری اشیاء کی قلت ہے، جبکہ روٹی کی قیمتیں بھی بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں۔