دبئی، 16 دسمبر، 2024 (وام) --بوسٹن کنسلٹنگ گروپ (BCG) کی جاری کردہ گلوبل پیمنٹس رپورٹ 2024 کے مطابق، متحدہ عرب امارات کی ادائیگیوں کی صنعت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، اور اس سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدنی 2028 تک 27.3 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
عالمی سطح پر ادائیگیوں کے شعبے کی ترقی کی شرح میں کمی کی توقع ہے، اور اس کی مجموعی سالانہ شرح نمو (CAGR) 2028 تک 5 فیصد تک گرنے کا امکان ہے۔ تاہم، مشرق وسطیٰ، لاطینی امریکہ اور ایشیاء پیسفک کے خطوں میں بہتر ترقی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
متحدہ عرب امارات، خلیجی ممالک (GCC) میں اپنی قیادت برقرار رکھے ہوئے ہے، جس کی اہم وجوہات میں ڈیجیٹل تبدیلی میں تیزی اور مالیاتی شعبے میں حکمتِ عملی کے تحت کی گئی سرمایہ کاری شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات کے ادائیگیوں کے شعبے میں حالیہ برسوں میں نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں آمدنی 2018 میں 9.8 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2023 میں 18.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
مزید برآں، متحدہ عرب امارات میں لین دین کی تعداد میں بھی زبردست اضافہ متوقع ہے، جو 2023 میں 1.7 ارب سے بڑھ کر 2028 تک 3.1 ارب سے تجاوز کر جائے گی۔
یہ رپورٹ متحدہ عرب امارات کی معیشت میں ڈیجیٹل اختراعات اور مالیاتی شعبے میں ترقی کے مسلسل سفر کو نمایاں کرتی ہے، جو ملک کو خطے میں ایک مضبوط مالیاتی مرکز کے طور پر مستحکم کر رہا ہے۔