ابوظہبی، 14 جنوری، 2025 (وام) --صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان اور کینیا کے صدر ڈاکٹر ولیم ساموئی روٹو نے آج ابوظہبی کے قصر البحر میں یو اے ای-کینیا جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے 'CEPA' پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو گہرا کرنے، سپلائی چینز کو مضبوط کرنے اور مارکیٹ تک رسائی بڑھانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان نے اس معاہدے کو افریقہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات مضبوط کرنے اور کاروبار و سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے یو اے ای کے عزم کا ثبوت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یو اے ای-کینیا 'CEPA' تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اہم شعبوں میں جدت اور پائیدار ترقی کو بھی تقویت دے گا، جن میں زراعت، ریٹیل، صحت، مالی خدمات، ٹیکنالوجی، اور سیاحت شامل ہیں۔
شیخ محمد بن زاید نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات کینیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور افریقہ میں ترقیاتی شراکت داری کو وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔
کینیا کے صدر ڈاکٹر ولیم ساموئی روٹو نے عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ یو اے ای اور کینیا کے درمیان تعلقات مضبوط کرنے کے لیے ان کے عزم کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے 'CEPA' کو دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا اور دونوں اقوام کے مشترکہ فوائد کے حصول کے لیے کینیا کی دلچسپی کا اعادہ کیا۔
معاہدے پر یو اے ای کی جانب سے وزیر مملکت برائے غیر ملکی تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی اور کینیا کی جانب سے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ ڈاکٹر مسالیا موداوادی نے دستخط کیے۔
یہ نیا معاہدہ یو اے ای اور کینیا کے بڑھتے ہوئے تعاون پر مبنی ہے، جس کے تحت 2024 کے پہلے نو مہینوں میں غیر تیل دو طرفہ تجارت 3.1 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جو 2023 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 29.1 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
کینیا کی معیشت، جو افریقہ کی سب سے امید افزا معیشتوں میں شامل ہے، نے 2023 میں 5.6 فیصد حقیقی جی ڈی پی ترقی حاصل کی، جبکہ اندازہ ہے کہ یہ 2024 سے 2026 کے دوران اوسطاً 5.2 فیصد رہے گی۔ اس کے خدمات کے شعبے، جو کینیا کے جی ڈی پی کا 53.6 فیصد حصہ بناتا ہے، اور زراعت کے شعبے، جو قومی جی ڈی پی کا تقریباً ایک چوتھائی ہے، میں یو اے ای کے کاروباروں کے لیے خطے میں وسعت کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔
یہ 'CEPA' آئی سی ٹی، بینکنگ، سیاحت، انفراسٹرکچر، اور قابل تجدید توانائی جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے بہاؤ کو تیز کرے گا۔
بین الاقوامی تجارت یو اے ای کے اقتصادی ایجنڈے کا ایک بنیادی ستون ہے اور معیشت کو دہائی کے آخر تک 800 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ تک پہنچانے کی کوششوں کا اہم جزو ہے۔