ابوظبی، 3 فروری 2025 (وام) – متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران، عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے ابوظبی میں قصر الوطن میں کابینہ اجلاس کی صدارت کی، جہاں ملک کے بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل سیکیورٹی اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں شیخ محمد بن راشد نے قومی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے عزم کا اعادہ کیا، اور "اتحاد ہائی اسپیڈ مسافر ریلوے" منصوبے کا جائزہ لیا۔ یہ ریلوے 350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلے گی، جس سے نقل و حرکت میں انقلاب آئے گا، تجارتی روابط مضبوط ہوں گے، اور آئندہ 50 سالوں میں ملکی معیشت میں 145 ارب درہم کا اضافہ ہوگا۔
کابینہ نے "یو اے ای لاجسٹکس انٹیگریشن کونسل" کے قیام کی بھی منظوری دی، جو بندرگاہوں، ٹرانسپورٹ، کسٹمز اور ریلوے جیسے کلیدی شعبوں میں ہم آہنگی پیدا کرے گی۔ اس اقدام کا مقصد اگلے سات سالوں میں لاجسٹکس انڈسٹری کو 200 ارب درہم سے تجاوز کرنا ہے۔
حکومت نے "یو اے ای گورنمنٹ انوویشن منتھ" متعارف کرانے کا اعلان کیا، جو حکومت کی بنیادی پالیسی کے طور پر جدت طرازی کو فروغ دینے کی ایک اور پیش رفت ہے۔ یہ اقدام "محمد بن راشد سینٹر فار گورنمنٹ انوویشن" کے تحت کیا گیا ہے، جو 30 سے زائد حکومتوں کے ساتھ بہترین پریکٹسز شیئر کرتا ہے۔
ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے "نیشنل سائبر سیکیورٹی اسٹریٹجی" منظور کی گئی، جو پانچ بنیادی ستونوں—گورننس، تحفظ، اختراع، استعداد سازی اور شراکت داری—پر مبنی ہے۔ یہ حکمت عملی یو اے ای کو "گلوبل سائبر سیکیورٹی انڈیکس" میں عالمی سطح پر قائدانہ حیثیت دلانے کے ہدف کے مطابق تیار کی گئی ہے۔
کابینہ نے 2031 تک "یو اے ای ٹیلنٹ اٹریکشن اینڈ ریٹینشن اسٹریٹجی" کے ایک نئے مرحلے کی بھی منظوری دی، جس میں ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی، صحت، لاجسٹکس اور مالیاتی خدمات جیسے کلیدی شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔
یہ اقدام "LinkedIn" کی رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات کو عالمی سطح پر کیریئر بنانے کے خواہشمند افراد کے لیے سب سے پسندیدہ ملک قرار دیے جانے کے تناظر میں لیا گیا ہے۔
کابینہ نے "API-فرسٹ پالیسی" کی منظوری دی، جو سرکاری اداروں میں ٹیکنالوجی کے انضمام کو بہتر بنانے، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گی۔
اس کے علاوہ، "نیشنل جیو اسپیشل ڈیٹا پالیسی" کی بھی منظوری دی گئی، جو جغرافیائی معلومات کے نظم و نسق کو بہتر بنانے اور مؤثر فیصلے کرنے میں معاون ہوگی۔
کابینہ نے "یو اے ای سرکلر اکانومی ایجنڈا 2031" کا جائزہ لیا، جس میں قدرتی وسائل کے بہتر استعمال، مقامی سپلائی چین کی معاونت، اور پائیداری کے اقدامات میں ہونے والی نمایاں پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
"نیشنل اسٹریٹجی ٹو کامبیٹ ڈیزرٹیفیکیشن 2022-2030" کے تحت 1,800 ہیکٹر بنجر زمین کی بحالی اور مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے مٹی کی نگرانی کے منصوبوں میں بھی نمایاں ترقی کی گئی ہے۔
"نیشنل یوتھ ایجنڈا 2031" کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جبکہ یو اے ای کی وفاقی حکومت میں "چیف اے آئی آفیسرز" کی تقرری کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
کابینہ نے عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے "ورلڈ ایسوسی ایشن آف انویسٹمنٹ پروموشن ایجنسیز" (WAIPA) میں یو اے ای کی شمولیت کی منظوری دی، جبکہ ملک میں کھیلوں کے شعبے کو ترقی دینے کے لیے "اسپورٹس کوآرڈینیشن کونسل" کی تنظیمِ نو کی بھی منظوری دی گئی۔
یو اے ای کی بین الاقوامی حیثیت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے متعدد عالمی کانفرنسوں اور فورمز کی میزبانی کی منظوری دی گئی۔ ان میں "اقوام متحدہ کانگریس برائے جرائم کی روک تھام اور فوجداری انصاف", "فرسٹ انٹرنیشنل کیمل فورم 2025" اور "ساتویں بین الاقوامی کانفرنس برائے اپلائیڈ لسانیات اور زبان کی تدریس (ALT 2025)" شامل ہیں۔
کابینہ نے قطر، کویت، آسٹریلیا اور اردن سمیت دیگر ممالک کے ساتھ ٹیکس اور سرمایہ کاری کے معاہدوں سمیت 33 بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق کی، تاکہ یو اے ای کے عالمی شراکت داری نیٹ ورک کو مزید وسعت دی جا سکے۔