دبئی، 9 فروری 2025 (وام) – متحدہ عرب امارات مصنوعی ذہانت میں عالمی قیادت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے حکمت عملی پر مبنی سرمایہ کاری، جدید ضوابط، اور انفراسٹرکچر کی ترقی پر توجہ دے رہا ہے۔ PwC کی رپورٹ کے مطابق، 2030 تک مصنوعی ذہانت کا ملکی معیشت میں حصہ 13.6 فیصد یعنی تقریباً 100 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو اسے دنیا کے سب سے زیادہ AI سے مستفید ہونے والے ممالک میں شامل کرتا ہے۔
ابوظہبی نے دنیا کی پہلی اے آئی سے چلنے والی حکومت بننے کی حکمت عملی اختیار کی ہے، جس میں سوورین کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سرکاری آپریشنز کی مکمل آٹومیشن شامل ہے۔ متحدہ عرب امارات عالمی سطح پر اے آئی ماہرین اور اسٹارٹ اپس کو اپنی جانب راغب کر رہا ہے، جہاں ‘نویدہ’ اور ‘گوگل’ جیسی بڑی کمپنیاں اس کے AI ایکو سسٹم کا حصہ بن چکی ہیں۔
اوریکل (Oracle) کے نک ریڈشاو اور ‘نویدہ’ کے احمد جمال سمیت صنعت کے ماہرین نے متحدہ عرب امارات کی اے آئی اپنانے میں قائدانہ حیثیت کی تعریف کی ہے۔ یو اے ای کی پہلی قومی مصنوعی ذہانت حکمت عملی 2017 میں متعارف کرائی گئی تھی، جو صحت، تعلیم، اور توانائی جیسے کلیدی شعبوں پر مرکوز ہے، اور ملک کو 2031 تک ایک عالمی مصنوعی ذہانت پر مبنی مرکز بنانے کا ہدف رکھتی ہے۔
2022 کے بعد سے متحدہ عرب امارات میں اے آئی ماہرین کی تعداد میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ قانون سازی، سائبر سیکیورٹی، اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن میں مستقل پیشرفت کے باعث اے آئی کی اختراعات میں قیادت برقرار رکھتے ہوئے طویل مدتی اقتصادی ترقی اور تکنیکی برتری کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔