شیخ محمد بن راشد نے ریل بس اور تھرمے دبئی منصوبوں کا جائزہ لیا، پائیدار نقل و حمل اور فلاح و بہبود کے نئے دور کا آغاز

دبئی، 10 فروری 2025 (وام) – متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم، اور دبئی کے حکمران، عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے ورلڈ گورنمنٹس سمٹ 2025 کے موقع پر "ریل بس" اور "تھرمے دبئی" منصوبوں کا جائزہ لیا۔ ان کے ہمراہ ولی عہد دبئی، نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم بھی موجود تھے۔

شیخ محمد بن راشد نے روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے اسٹینڈ پر "ریل بس" منصوبے کا جائزہ لیا، جو شمسی توانائی سے چلنے والا ایک جدید اور پائیدار شہری ماس ٹرانزٹ سسٹم ہے۔ یہ مکمل طور پر خودکار اور ماحولیاتی طور پر محفوظ ٹرانسپورٹ سسٹم ہے، جو یو اے ای نیٹ زیرو اسٹریٹجی 2050 اور دبئی نیٹ زیرو ایمیشن پبلک ٹرانسپورٹ اسٹریٹجی 2050 سے ہم آہنگ ہے۔ یہ منصوبہ دبئی خودکار ٹرانسپورٹ اسٹریٹجی 2030 کا بھی حصہ ہے، جس کے تحت 2030 تک دبئی کی 25% سفری نقل و حرکت کو خودکار بنایا جائے گا۔ ریل بس کا نظام شمسی توانائی پر مبنی، انتہائی کم لاگت کا ایک مربوط نیٹ ورک ہوگا، جو دبئی کے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم میں ضم کیا جائے گا۔

روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مطر الطایر نے بریفنگ میں بتایا کہ ریل بس کے ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ میں جدید ماحول دوست ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی بوگیاں ہلکے وزن کے اسٹرکچر پر مشتمل ہیں، جن کا وزن محض 7 ٹن ہے اور یہ 3D پرنٹنگ ٹیکنالوجی اور ری سائیکل شدہ کاربن فائبر سے تیار کی گئی ہیں۔ ہر بوگی کی لمبائی 11.5 میٹر، چوڑائی 2.6 میٹر، اور اونچائی 2.9 میٹر ہے، جبکہ یہ 40 مسافروں کی گنجائش رکھتی ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔

ریل بس کے اندرونی ڈیزائن میں کشادہ اور آرام دہ نشستیں، جدید ایمبینٹ لائٹنگ، اور آن بورڈ وائی فائی کی سہولت شامل کی گئی ہے، تاکہ مسافروں کو ایک جدید، باسہولت اور پائیدار سفری تجربہ فراہم کیا جا سکے۔

شیخ محمد بن راشد نے "تھرمے دبئی" منصوبے کا بھی جائزہ لیا، جو زعبیل پارک میں 2 بلین درہم کی سرمایہ کاری سے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ 500,000 اسکوائر فٹ پر محیط ایک جدید ویلبیئنگ کمپلیکس ہوگا، جو 100 میٹر بلند ہوگا اور دنیا کا سب سے اونچا ویلبیئنگ ریزورٹ کہلائے گا۔ اس منصوبے کی سالانہ 1.7 ملین زائرین کی گنجائش ہوگی اور اس میں دنیا کا سب سے بڑا انڈور بوٹینیکل گارڈن بھی شامل ہوگا، جس میں 200 سے زائد نایاب پودوں کی اقسام رکھی جائیں گی۔ پائیداری کو مدنظر رکھتے ہوئے، 90% تھرمل پول واٹر ری سائیکل کیا جائے گا، جبکہ 80% ایئر کولنگ سسٹم کلین انرجی پر چلے گا۔

یہ ریزورٹ تین خصوصی زونز پر مشتمل ہوگا، جن میں سے پلے زون بچوں اور بڑوں کے لیے تفریح، صحت، اور انٹرایکٹو سرگرمیوں پر مشتمل ہوگا۔ ریلیکس زون میں انڈور اور آؤٹ ڈور پول، منرل پول، بھاپ کے کمرے، اور قدرتی علاج کی سہولت دستیاب ہوگی۔ جبکہ ری اسٹور زون ایک مکمل تھرمل کمپلیکس ہوگا، جس میں سونا، بھاپ کے کمرے، اور جدید منرل ٹریٹمنٹ باتھز فراہم کیے جائیں گے۔

تھرمے دبئی روایتی اور جدید فلاحی سہولیات کا امتزاج ہوگا، جہاں رومن، ترک، جاپانی ہاٹ اسپرنگز، اور نارڈک سونا جیسے عالمی روایتی غسل تجربات کو یکجا کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ریزورٹ میں آرٹسٹک اور واٹر بیسڈ سرگرمیاں بھی شامل ہوں گی، جو زائرین کو ایک منفرد اور یادگار تجربہ فراہم کریں گی۔

شیخ محمد بن راشد نے دبئی میں جدید اور ماحول دوست منصوبوں کے فروغ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبے شہر کی پائیداری اور عالمی قیادت کے وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ اقدامات دبئی کو ایک سمارٹ، پائیدار اور متحرک شہر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔