متحدہ عرب امارات میں چوتھا ICAO گلوبل سپورٹ سمپوزیم، پائیدار ہوا بازی کے اقدام کا آغاز

ابوظہبی، 10 فروری 2025 (وام) – چوتھے ICAO گلوبل ایمپلیمنٹیشن سپورٹ سمپوزیم 2025 اور گلوبل سسٹین ایبل ایوی ایشن مارکیٹ پلیس کا ابوظہبی میں نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی سرپرستی میں آغاز ہو گیا ہے۔ یہ ایونٹ 10 سے 12 فروری تک جاری رہے گا، جس میں 1,500 سے زائد شرکاء، 35 سے زیادہ وزرائے ٹرانسپورٹ اور 193 ممالک کے ہوا بازی کے رہنما شریک ہیں۔

وزیرِ معیشت اور جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی (GCAA) کے چیئرمین، عبداللہ بن طوق المری نے کہا کہ امارات، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز کو اپنانے کے ذریعے کاربن کے اخراج میں کمی اور فضائی ٹریفک مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے عالمی تعاون کو ہوا بازی کے شعبے میں ڈی کاربونائزیشن کے حصول کے لیے کلیدی عنصر قرار دیا ہے۔

ICAO کے صدر، سالواتورے سیاکچیتانو نے ہوا بازی کے شعبے میں امارات کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ICAO عالمی سطح پر استعداد بڑھانے کے لیے 25 ملین ڈالر کی مالی امداد فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز ہوا بازی کے مستقبل کو نئی شکل دے رہی ہیں، اور ماحولیاتی پائیداری اس شعبے کی ترجیح ہونی چاہیے۔

بین الاقوامی معاہدے اور ایوارڈز کے تحت، متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی (GCAA) اور بین الاقوامی سول ایوی ایشن تنظیم (ICAO) کے درمیان "شیخ محمد بن راشد المکتوم گلوبل ایوی ایشن ایوارڈ" کے لیے معاہدہ طے پایا۔ یہ ایوارڈ متبادل ایندھن کی تحقیق کے فروغ کے لیے 1 ملین ڈالر کی مالی اعانت فراہم کرے گا، جو ہوا بازی کے شعبے میں پائیدار ترقی کے اقدامات کو مزید تقویت دے گا۔

اس کے علاوہ، ہوا بازی میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے متعدد عالمی معاہدے بھی طے کیے گئے، جن کا مقصد ہوا بازی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور صنعت میں اختراعات کو فروغ دینا ہے۔

افتتاحی دن کی نمایاں سرگرمیوں میں ایک اعلیٰ سطحی وزارتی سیشن شامل تھا، جس میں ہوا بازی کے شعبے میں معیشت، سماجی اثرات، پائیداری، اور وسائل سے محروم ممالک کے لیے عمل درآمدی تعاون جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ سیشن عالمی رہنماؤں اور ہوا بازی کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا موقع فراہم کرتا ہے، تاکہ مستقبل کی حکمت عملیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے اور اس شعبے میں ترقی کو تیز کیا جا سکے۔