متحدہ عرب امارات، تجارت اور سرمایہ کاری کا عالمی مرکز، ای وائی کے تیز ترین ترقی پذیر مارکیٹوں میں شامل

ابوظبی، 26 فروری 2025 (وام) – متحدہ عرب امارات عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے اور آئندہ پانچ سے دس سالوں میں ایرنسٹ اینڈ ینگ (EY) کے تیز ترین ترقی کرنے والے بازاروں میں شامل ہونے کی توقع ہے۔

یہ پیشگوئی ای وائی یو اے ای کے منیجنگ پارٹنر، انتھونی او سلیوان نے ابوظبی میں انویسٹوپیا 2025 کے موقع پر امارات نیوز ایجنسی (وام) سے گفتگو کرتے ہوئے کی۔ انہوں نے کہا کہ ای وائی کی عالمی قیادت متحدہ عرب امارات اور مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ کے خطے کو اسٹریٹجک ترجیح کے طور پر دیکھتی ہے، کیونکہ یہاں سرمایہ کاری کا ماحول انتہائی سازگار ہے اور اقتصادی ترقی کی پالیسیاں معاون ہیں۔

سلیوان نے بتایا کہ کمپنی 1966 سے متحدہ عرب امارات میں کام کر رہی ہے، اور اس کا دبئی آفس خطے میں سب سے بڑا ہے، جہاں کئی علاقائی رہنما اور کلیدی کلائنٹس موجود ہیں۔

انہوں نے مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کے اہم کردار پر روشنی ڈالی، اور کہا کہ یہ ٹیکنالوجیز آپریشنل کارکردگی بڑھانے اور مالیاتی تقاضوں پر عمل درآمد کو مؤثر بنانے کے لیے ناگزیر ہو چکی ہیں۔

سلیوان نے کہاکہ، "ٹیکنالوجی اور ڈیٹا آج کسی بھی کاروبار کا لازمی جزو بن چکے ہیں، خاص طور پر کنسلٹنگ کے شعبے میں۔ ہم مصنوعی ذہانت کو ٹیکس کمپلائنس کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں تاکہ کلائنٹس کو ریگولیٹری تقاضوں پر مؤثر طریقے سے عمل کرنے میں مدد دی جا سکے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی فنانشل آڈٹنگ میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے، جو بہتر مالیاتی تجزیے اور ڈیٹا کی مطابقت کو یقینی بناتا ہے، اور ٹیموں کو مشاورتی خدمات پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ای وائی نہ صرف اپنے اندرونی آپریشنز میں جدید ٹیکنالوجیز کو ضم کر رہا ہے بلکہ اپنے کلائنٹس کو بھی اے آئی سے چلنے والے حل اپنانے میں مدد فراہم کر رہا ہے، تاکہ وہ اپنی مسابقتی حیثیت کو مستحکم کر سکیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ کمپلائنس میں سب سے بڑا چیلنج درست پارٹنر کا انتخاب ہے، جو مطلوبہ مہارت اور تجربے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنا سکے۔

سلیوان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ESG) معیارات کو اپنانے میں مشرق وسطیٰ عالمی سطح پر نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے مصر میں کوپ27 اور متحدہ عرب امارات میں کوپ28 کی میزبانی کو اس خطے کی پائیداری کے عزم کی علامت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ تیل اور گیس پر انحصار کرنے والے اس خطے کے لیے پائیدار معیشت میں تبدیلی انتہائی اہم ہے۔

سلیوان نے بتایاکہ، "ہم دیکھ رہے ہیں کہ خطے میں کئی کمپنیاں ESG حکمت عملی اپنا رہی ہیں، خواہ وہ زیادہ سماجی طور پر ذمہ دار پالیسیوں کو نافذ کر رہی ہوں یا نئے ضوابط کی تعمیل کر رہی ہوں۔ ان میں سے کئی کمپنیاں عالمی سطح پر ESG کے میدان میں قائدانہ کردار ادا کر رہی ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ ای وائی مختلف کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ وہ پائیداری کی حکمت عملیوں کو مؤثر انداز میں نافذ کر سکیں، جو مشرق وسطیٰ کو عالمی سطح پر پائیدار معیشت میں ایک نمایاں حیثیت حاصل کرنے میں مدد دے گا۔