ابوظہبی، 3 مارچ 2025 (وام) – نیو یارک یونیورسٹی ابوظہبی کے محققین نے ایک جدید آلہ تیار کیا ہے جو سرجنز کو کریو سرجری (انتہائی سرد درجہ حرارت سے رسولی ختم کرنے کا طریقہ) کے دوران کینسر کے خلیات کو بہتر طور پر شناخت اور ختم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
یہ انقلابی ٹیکنالوجی ایک مخصوص نینواسکیل (نہایت باریک) مواد پر مبنی ہے، جو منجمد ماحول میں کینسر کے خلیات کو نمایاں کر دیتا ہے، جس سے یہ صحت مند بافتوں سے الگ نظر آتے ہیں اور سرجری کی درستگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ تحقیق امریکن کیمیکل سوسائٹی کے جریدے میں "فریزنگ ایکٹیویٹڈ کوویننٹ آرگینک فریم ورکس فار پریسائز فلوروسینس کریو-امیجنگ آف کینسر ٹشو" کے عنوان سے شائع ہوئی، جس میں ٹریبولسی ریسرچ گروپ نے ایک منفرد نینواسکیل کوویننٹ آرگینک فریم ورک (nTG-DFP-COF) تیار کیا ہے۔ یہ مواد انتہائی سرد درجہ حرارت میں اپنی چمک بڑھاتا ہے، جس سے کینسر کے خلیات اور صحت مند بافتوں میں واضح فرق ممکن ہو جاتا ہے۔
یہ پیش رفت کریو سرجری کی درستگی اور حفاظت کو بہتر بناتی ہے، جس سے سرجنز کینسر کے خلیات کو زیادہ مؤثر انداز میں نکال سکتے ہیں جبکہ صحت مند بافتوں کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، یہ آلہ تشخیص اور علاج کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کرتا ہے، جس سے اضافی سرجری کی ضرورت کم ہو سکتی ہے اور مریضوں کی صحت یابی کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔
نیو یارک یونیورسٹی ابوظہبی کی ٹریبولسی ریسرچ گروپ کی محقق، فرح بنی یتو نے کہاکہ، "ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک انقلابی آلہ ہے جو کینسر سرجری میں ایک نئی جہت متعارف کروا سکتا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "یہ ٹیکنالوجی رسولیوں کو زیادہ درستگی سے ہٹانے میں مدد دے کر اضافی سرجری کی ضرورت کو کم کر سکتی ہے اور مریضوں کی صحت یابی کے عمل کو تیز کر سکتی ہے۔"
پروفیسر علی ٹریبولسی، جو نیو یارک یونیورسٹی ابوظہبی میں کیمیا کے پروفیسر اور اس تحقیق کے مرکزی محقق ہیں، نے کہا، "یہ پیش رفت امیجنگ اور تھراپی کے درمیان فرق کو ختم کرتی ہے، اور سرجنز کو حقیقی وقت میں کینسر کی شناخت اور اسے بے مثال درستگی کے ساتھ ہٹانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ “فلوروسینس امیجنگ اور کریو سرجری کو یکجا کر کے ہم کینسر کے علاج میں ایک نیا سنگ میل طے کر رہے ہیں اور مشکل سے قابل علاج رسولیوں کے مریضوں کے لیے نئی امید فراہم کر رہے ہیں۔”