متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے قومی سرمایہ کاری حکمت عملی، ڈیجیٹل معیشت، صحت عامہ اور سماجی معاونت کے نئے اقدامات کی منظوری دے دی

ابوظہبی، 10 مارچ، 2025 (وام) --متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران، عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے ابوظہبی میں قصر الوطن میں کابینہ اجلاس کی صدارت کی۔

اجلاس میں نائب صدر، نائب وزیر اعظم اور صدارتی کورٹ کے چیئرمین، عزت مآب شیخ منصور بن زاید النہیان، دبئی کے ولی عہد، نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع، عزت مآب شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم، دبئی کے پہلے نائب حکمران، نائب وزیر اعظم اور وزیر خزانہ، عزت مآب شیخ مکتوم بن محمد بن راشد المکتوم، اور نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ، عزت مآب لیفٹیننٹ جنرل شیخ سیف بن زاید النہیان نے شرکت کی۔

عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کہاکہ، "آج میں نے ابوظہبی میں قصر الوطن میں متحدہ عرب امارات کی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی، جہاں ہم نے اگلے چھ سال کے لیے قومی سرمایہ کاری حکمت عملی کی منظوری دی۔ ہمارا ہدف 2023 میں 112 ارب درہم سے بڑھا کر 2031 تک سالانہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد 240 ارب درہم تک لے جانا اور ملک میں کل غیر ملکی سرمایہ کاری کو 800 ارب درہم سے بڑھا کر 2.2 ٹریلین درہم تک پہنچانا ہے۔ یہ حکمت عملی صنعت، لاجسٹکس، مالیاتی خدمات، قابل تجدید توانائی، اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کرے گی۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "متحدہ عرب امارات کی معیشت مسلسل ترقی کر رہی ہے، عالمی منڈیوں کو وسعت دے رہی ہے، سرمایہ کاری کو راغب کر رہی ہے، اور دنیا میں سب سے زیادہ کاروبار دوست ماحول بنا رہی ہے۔"

اجلاس کے دوران، کابینہ نے افریقی ممالک کے ساتھ متحدہ عرب امارات کی اسٹریٹجک شراکت داریوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا۔ 95 فیصد منظور شدہ اقدامات پہلے ہی کامیابی سے مکمل کیے جا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں پانچ سال کے عرصے میں متحدہ عرب امارات اور سب صحارا افریقہ کے درمیان تجارت کا حجم 126.7 ارب درہم سے بڑھ کر 235 ارب درہم ہو گیا، جو 87 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

کابینہ نے متحدہ عرب امارات کی قومی ڈیجیٹل معیشت کی حکمت عملی کا بھی جائزہ لیا، جس کا مقصد 9.7 فیصد سے بڑھا کر 19.4 فیصد تک ڈیجیٹل معیشت کا جی ڈی پی میں حصہ بنانا ہے۔ مزید برآں، ایک نئی قومی پالیسی برائے صحت کے خطرات کی روک تھام کی منظوری دی گئی، جس کا مقصد صحت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہتر تیاری اور صحت عامہ کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

کابینہ نے انسانی اعضا اور بافتوں کے عطیہ اور پیوندکاری کے لیے ایگزیکٹو ضوابط کی منظوری دی، تاکہ افراد کو جان بچانے والے علاج تک بہتر رسائی فراہم کی جا سکے۔ متحدہ عرب امارات میں اس وقت 13 سے زیادہ لائسنس یافتہ ٹرانسپلانٹ مراکز ہیں، اور ٹرانسپلانٹ سرجری میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

امارات ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل کی تشکیل نو بھی کابینہ کے اجلاس میں منظور کی گئی، جس کی سربراہی شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کریں گے۔ مزید برآں، سماجی معاونت اور بااختیار بنانے کے نظام کو مستحکم کرنے کے لیے نئے فیصلے کیے گئے، جس کے تحت معاشرتی سپورٹ پروگرامز کا سالانہ بجٹ 29 فیصد اضافے کے ساتھ 3.5 ارب درہم کر دیا گیا۔

کابینہ نے تین جامع اقتصادی شراکت داری معاہدوں (سیپا) کی بھی منظوری دی، جو کہ ملائیشیا، نیوزی لینڈ، اور کینیا کے ساتھ طے کیے گئے ہیں، اور ساتھ ہی مختلف ممالک کے ساتھ سیکیورٹی، لاجسٹکس، اور حکومتی تعاون کے معاہدے شامل ہیں۔

کابینہ نے "وفاقی حکومت میں ملک سے باہر ریموٹ ورک سسٹم" کو بھی منظور کیا، تاکہ عالمی ہنر اور مہارتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سرکاری اداروں کے منصوبے اور تحقیقی مطالعات مکمل کیے جا سکیں۔

مزید برآں، قومی "گرین سرٹیفکیٹس پروگرام" کا آغاز کیا گیا، جو تجارتی عمارتوں، ہوٹلوں، صنعتی اداروں اور سرکاری دفاتر سمیت مختلف شعبوں میں پائیداری کے معیار کو فروغ دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔

اجلاس میں مختلف ایجنڈا آئٹمز پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں سرمایہ کاری، ڈیجیٹل معیشت، صحت عامہ، سماجی معاونت، ماحولیاتی استحکام اور بین الاقوامی شراکت داری شامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے ملک کے مستقبل کی ترقی کے لیے اہم اقدامات کیے، جو عالمی مسابقت اور قومی خوشحالی کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔