یو اے ای کا خطے میں ڈرون ایئر نیویگیشن سروسز کی سرٹیفیکیشن کے لیے پہلا قومی ضابطہ متعارف

ابوظہبی، 13 مارچ، 2025 (وام) – متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے خطے میں پہلی بار بغیر پائلٹ طیاروں (ڈرونز) کے لیے ایئر نیویگیشن سروس فراہم کنندگان کی سرٹیفیکیشن کا قومی ضابطہ "CAR Airspace Part Uspace" متعارف کرایا ہے۔

یہ ضابطہ ان اداروں کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے جو ڈرونز کے لیے ایئر نیویگیشن سروسز فراہم کرنا چاہتے ہیں، اور انہیں سخت عملی اور حفاظتی تقاضے پورے کرنے کا پابند بناتا ہے۔

یہ نیا ضابطہ ایک مربوط حکمت عملی کے تحت تیار کیا گیا ہے اور ڈرون ایئر نیویگیشن سروس فراہم کنندگان کی سرٹیفیکیشن کے ہر اہم پہلو کا احاطہ کرتا ہے، جن میں معاہدہ بندی، تربیت، کوالٹی ایشورنس، حفاظت، مستقبل کی منصوبہ بندی، آڈٹنگ، اور سرٹیفیکیشن شامل ہیں۔

اس کا مقصد ڈرون آپریشنز کو موجودہ ہوا بازی کے نظام میں مؤثر طریقے سے ضم کرنا اور لائسنس یافتہ اداروں کے ذریعے ڈرونز کے لیے مخصوص ایئر نیویگیشن سروسز فراہم کر کے متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود کو زیادہ مربوط، مؤثر اور محفوظ بنانا ہے۔

جی سی اے اے کے ڈائریکٹر جنرل، سیف محمد السویدی نے اس پیش رفت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ،
"یہ ضابطہ صرف ضابطہ بندی کے لیے نہیں، بلکہ ہوا بازی میں حفاظت، کارکردگی اور جدت کے ہمارے عزم کا واضح ثبوت ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ جیسے جیسے ڈرون آپریشنز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، یہ جدید ریگولیٹری فریم ورک ڈرون اور تجارتی ہوا بازی کے درمیان مربوط ہم آہنگی کا ایک ماڈل ثابت ہوگا، اور متحدہ عرب امارات کو ہوا بازی کی صنعت میں خطے کی قیادت کو مزید مستحکم کرنے میں مدد دے گا۔

ایوی ایشن سیفٹی افیئرز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل، عقیل احمد الزرونی نے اس ضابطے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ، "یہ ضابطہ جدید ڈرون ٹیکنالوجیز کو محفوظ طریقے سے متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود میں ضم کرنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے واضح سرٹیفیکیشن معیارات متعین کیے گئے ہیں، جو حفاظت اور پیشہ ورانہ مہارت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ صنعت کی ترقی کو بھی فروغ دیتے ہیں، اور متحدہ عرب امارات کو جدید ہوا بازی کے میدان میں ایک نمایاں مقام دلاتے ہیں۔

ڈرون ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ، بغیر پائلٹ طیاروں کے لیے فضائی حدود کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔

متوقع طور پر آئندہ برسوں میں متحدہ عرب امارات میں ڈرون آپریشنز کی تعداد دوگنا ہو جائے گی، جس کی بنیادی وجوہات تکنیکی ترقی اور خودکار فضائی نظاموں پر بڑھتا ہوا انحصار ہیں۔