برسلز، 18 مارچ، 2025 (وام) – یورپول کی ایک تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت منظم جرائم کو بے حد طاقتور بنا رہی ہے، جس سے یورپی معاشروں کا استحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ مجرمانہ سرگرمیاں ریاستی سرپرستی میں عدم استحکام کی کوششوں سے جُڑتی جا رہی ہیں۔
یورپی یونین کے پولیس ڈیٹا پر مبنی یورپول کی چار سالہ رپورٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک واضح انتباہ جاری کیا گیا ہے، تاکہ مستقبل کی پالیسیوں کی رہنمائی کی جا سکے۔
یورپول کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، کیتھرین ڈی بولے نے کہاکہ، "سائبر جرائم ایک ڈیجیٹل اسلحہ دوڑ میں تبدیل ہو رہے ہیں، جو حکومتوں، کاروباری اداروں اور افراد کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے حملے مزید مہلک اور ہدف پر مرکوز ہوتے جا رہے ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ، "بعض حملے نہ صرف مالی فائدے بلکہ عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، اور یہ حملے ریاستی سرپرستی کے ساتھ نظریاتی بنیادوں پر بھی کیے جا رہے ہیں۔"
یورپی یونین کی "سیریئس اینڈ آرگنائزڈ کرائم تھریٹ اسیسمنٹ 2025" (SOCTA 2025) رپورٹ کے مطابق، منشیات کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ، سائبر حملے اور آن لائن دھوکہ دہی جیسے جرائم معاشرے اور قانون کی حکمرانی کو کمزور کر رہے ہیں۔ ان جرائم کے ذریعے غیر قانونی منافع، تشدد، اور بدعنوانی کو معمول بنایا جا رہا ہے۔