ابوظہبی، 19 مارچ 2025 (وام) – متحدہ عرب امارات اور تیونس نے جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سیپا) کے لیے باضابطہ مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ اعلان یو اے ای کے وزیر مملکت برائے غیر ملکی تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی اور تیونس کے وزیر برائے تجارت و برآمدی ترقی سمیر عبید کے درمیان ہونے والی ایک ورچوئل میٹنگ کے دوران کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے متعلقہ وزارتوں کے حکام نے شرکت کی۔
معاہدے کا مقصد تجارتی و اقتصادی تعلقات کو وسعت دینا، تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنا، مارکیٹ تک بہتر رسائی فراہم کرنا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
ڈاکٹر ثانی الزیودی نے کہا کہ "تیونس ہمارے لیے ایک اہم شراکت دار ہے، جو وسیع تجارتی اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ سیپا معاہدہ ہمارے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور باہمی تعاون کے نئے دروازے کھولنے کا موقع فراہم کرے گا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات، خلیجی تعاون کونسل میں تیونس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ سال 2024 میں دونوں ممالک کے درمیان غیر تیل تجارت تقریباً 350 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جو 2023 کے مقابلے میں 7.7 فیصد اضافہ ہے۔
سمیر عبید نے کہا کہ، "یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو ایک نئی جہت فراہم کریں گے۔ ہم ایک ایسے معاہدے کی تشکیل کے لیے کام کر رہے ہیں جو دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنائے اور مشترکہ مفادات کو فروغ دے۔"
اب متحدہ عرب امارات اور تیونس سیپا معاہدے کی مخصوص شقوں اور نکات پر مذاکرات کریں گے، تاکہ دونوں ممالک کے لیے متوازن اور منصفانہ تجارتی فریم ورک تیار کیا جا سکے۔ معاہدے کے تحت زراعت، مینوفیکچرنگ، اور قابل تجدید توانائی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ تیونس کو جی سی سی اور عالمی منڈیوں تک مزید رسائی حاصل ہو گی۔
یہ اقدام متحدہ عرب امارات کی اقتصادی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت ملکی معیشت کو دوگنا کرنے اور بین الاقوامی تجارت میں اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنا شامل ہے۔
واضح رہے کہ یو اے ای اب تک 26 جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سیپا) مکمل کر چکا ہے، جن میں سے متعدد پہلے ہی نافذ العمل ہیں۔ سال 2024 میں متحدہ عرب امارات کی کل تجارت 816 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جو 2023 کے مقابلے میں 14.6 فیصد اضافہ ہے۔