ابوظہبی، 27 مارچ 2025 (وام) – متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے آج قومی کرنسی "درہم" کا نیا علامتی نشان متعارف کرایا ہے۔ یہ اقدام متحدہ عرب امارات کی قیادت کے وژن اور نائب صدر، نائب وزیرِ اعظم، اور صدارتی عدالت کے چیئرمین شیخ منصور بن زاید النہیان کی ہدایات اور مسلسل حمایت کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد ملک کی مالیاتی برتری کو عالمی سطح پر مستحکم کرنا ہے۔
مرکزی بینک نے "ڈیجیٹل درہم" کے اجراء اور سرکولیشن میں پیش رفت کا بھی اعلان کیا، جو 2023 میں شروع کیے گئے "فنانشل انفراسٹرکچر ٹرانسفارمیشن (FIT)" پروگرام کا اہم ستون ہے۔ ڈیجیٹل درہم کو وفاقی فرمان قانون نمبر (54) برائے 2023 کے تحت قانونی کرنسی تسلیم کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ روایتی نقدی کے ساتھ ساتھ تمام ادائیگی ذرائع میں قابلِ قبول ہو گا۔
نئے نشان کی رونمائی متحدہ عرب امارات کے اس اقدام کا حصہ ہے جس کے تحت ملک کے درہم کو ایک بین الاقوامی کرنسی بنانے کا ہدف ہے۔ متحدہ عرب امارات کا مرکزی بینک عرب دنیا کا پہلا مرکزی بینک بن گیا ہے جو FX گلوبل کوڈ میں شامل ہوا ہے، جس کا مقصد کرنسی تبادلے کی شفافیت، اخلاقی اصولوں اور بہترین پیشہ ورانہ ضوابط کو فروغ دینا ہے۔
ڈیجیٹل درہم: ٹیکنالوجی اور تحفظ کی خصوصیات
ڈیجیٹل درہم کو بلاک چین ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے، جس سے ادائیگی کے اخراجات میں کمی، ڈیٹا کا تحفظ، مؤثر رسک مینجمنٹ اور تیز رفتار لین دین ممکن ہو گا۔ ڈیجیٹل درہم صارفین اور کاروباری ادارے بینکوں، ایکسچینج ہاؤسز، مالیاتی و فِن ٹیک اداروں کے ذریعے حاصل کر سکیں گے، جب کہ اس کا اجرا 2025 کی چوتھی سہ ماہی میں متوقع ہے۔
اہم فوائد
ڈیجیٹل درہم کئی جدید خصوصیات رکھتا ہے، جیسےٹوکنائزیشن سے مالیاتی شمولیت اور ڈیجیٹل اثاثوں کی تقسیم کے ذریعے لیکویڈیٹی تک رسائی میں بہتری اور سمارٹ کنٹریکٹس، جس میں پیچیدہ لین دین کی خودکار تکمیل، اور متعدد شرائط و فریقوں پر مبنی معاہدات کا فوری نفاذ شامل ہے
نیا نشان
درہم کا نیا نشان انگریزی لفظ "درہم" سے اخذ کردہ ایک حرف پر مبنی ہے، جس میں دو افقی لائنیں شامل ہیں جو مالیاتی استحکام کی علامت ہیں، جب کہ ڈیجیٹل درہم کا نشان ایک دائرے میں گھرا ہوا ہے جس میں اماراتی پرچم کے رنگ شامل ہیں، جو قومی شناخت اور فخر کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ نشان درہم کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور مالیاتی نظام میں جدت کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور والیٹ
مرکزی بینک نے ایک مربوط اور محفوظ ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور "ڈیجیٹل درہم والیٹ" بھی تیار کیا ہے، جو افراد اور کاروباری اداروں کو خوردہ، تجارتی، اور سرحد پار ادائیگیوں سمیت کئی مالیاتی لین دین کی سہولت دے گا۔ یہ والیٹ بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے تاکہ صارفین کو آسان، مؤثر اور محفوظ تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
مرکزی بینک کے گورنر، خالد محمد بالامہ نے کہاکہ، "ہمیں فخر ہے کہ ہم آج درہم کے نئے نشان اور ڈیجیٹل درہم والیٹ کی رونمائی کر رہے ہیں، جو ہماری مالیاتی پالیسی کے مستقبل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ، "ڈیجیٹل درہم نہ صرف مالیاتی شمولیت، استحکام اور جدت کو فروغ دے گا بلکہ مالیاتی جرائم کے خلاف مزاحمت میں بھی مددگار ثابت ہو گا، اور عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی فراہم کرے گا۔"