جی سی سی میں بورڈز میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ، یو اے ای 14.8 فیصد کے ساتھ سرفہرست: رپورٹ

دبئی، 29 اپریل، 2025 (وام) -- ہیریئٹ واٹ یونیورسٹی اور اورورا 50 کے اشتراک سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک میں عوامی کمپنیوں کے بورڈز میں خواتین کی نمائندگی میں سال بہ سال نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات 14.8 فیصد نمائندگی کے ساتھ سرفہرست رہا، جو 2024 میں 10.8 فیصد تھی — یعنی 37 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ رپورٹ "جی سی سی بورڈ جینڈر انڈیکس" کا دوسرا ایڈیشن ہے، جو جنوری 2025 تک 729 عوامی کمپنیوں میں 5,535 بورڈ نشستوں کے اعداد و شمار پر مشتمل ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے 379 نشستیں خواتین کے پاس تھیں، جو خطے میں خواتین کی مجموعی نمائندگی کو 6.8 فیصد تک لے آئی، جبکہ 2024 میں یہ شرح 5.2 فیصد تھی۔

رپورٹ کے مطابق بحرین میں خواتین کی نمائندگی 8.5 فیصد (353 میں سے 30 نشستیں)، عمان میں 6.6 فیصد (849 میں سے 56 نشستیں) جبکہ، کویت میں 5.5 فیصد (946 میں سے 52 نشستیں)، سعودی عرب میں 2.9 فیصد (1,809 میں سے 53 نشستیں)، اور قطر میں 2.8 فیصد (459 میں سے 13 نشستیں) ریکارڈ کی گئی۔

یہ رپورٹ ہر سال اپریل میں شائع کی جاتی ہے اور جی سی سی خطے میں بورڈز میں صنفی توازن، مواقع، چیلنجز اور پیش رفت کا جائزہ فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔

اورورا 50 کی ڈائریکٹر عزت مآب شیخہ شمہ بنت سلطان بن خلیفہ آل نہیان نے رپورٹ کے اجرا پر کہا کہ، "جب 2020 میں اورورا 50 کا آغاز کیا گیا تو یو اے ای میں صرف 3.5 فیصد بورڈ نشستیں خواتین کے پاس تھیں۔ پانچ برسوں میں یہ شرح بڑھ کر 14.8 فیصد ہو چکی ہے، جو ہماری اجتماعی کوششوں کا ثبوت ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ بورڈ جینڈر انڈیکس کی مدد سے اس پیش رفت کو ٹریک کرنا مستقبل میں خواتین کی قیادت کے فروغ کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

ہیریئٹ واٹ یونیورسٹی دبئی کی پرووسٹ اور وائس پرنسپل، پروفیسر ہیدر میکگریگر نے کہا کہ، "2022 میں متحدہ عرب امارات آمد کے بعد سے میں خواتین کی بورڈ میں نمائندگی پر تحقیق کر رہی ہوں۔ امارات میں 20 سال مکمل ہونے پر ہمیں اورورا 50 کے ساتھ اس اہم شراکت داری پر فخر ہے۔"

انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت بورڈز میں صنفی مساوات کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس رپورٹ کے ذریعے پالیسی سازوں کو قابل اعتماد ڈیٹا فراہم کیا جاتا رہے گا۔

رپورٹ ہیریئٹ واٹ یونیورسٹی دبئی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے اور 2027 تک ہر سال اپ ڈیٹ کی جاتی رہے گی، تاکہ خطے میں صنفی مساوات اور تنوع کو فروغ دیا جا سکے۔