یو اے ای نے برکس وزرائے خارجہ اجلاس میں مؤثر شرکت کی، پائیدار امن اور کثیرالطرفہ اصلاحات پر زور

ریو ڈی جنیرو، 30 اپریل، 2025 (وام)--برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں منعقدہ برکس وزرائے خارجہ اجلاس میں متحدہ عرب امارات کے وفد کی قیادت وزیر مملکت برائے بین الاقوامی تعاون، محترمہ ریم الہاشمی نے کی۔ اجلاس 28 تا 29 اپریل 2025 کو منعقد ہوا، جس میں برکس کے 10 رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔

یو اے ای کے وفد میں سعید الہاجری (اسسٹنٹ وزیر برائے اقتصادی و تجارتی امور اور برکس میں یو اے ای کے نمائندہ خصوصی / شیرپا) اور برازیل میں امارات کے سفیر صالح السویدی بھی شامل تھے۔ یہ اجلاس 2024 میں مکمل رکنیت حاصل کرنے کے بعد متحدہ عرب امارات کی تیسری شرکت تھی۔

اجلاس کا بنیادی مقصد عالمی امن کے فروغ، کثیرالطرفہ اداروں کی اصلاح، اور اجتماعی معاشی لچک کو مستحکم کرنا تھا۔

محترمہ ریم الہاشمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ، "یو اے ای برکس کو ایک ایسا منفرد پلیٹ فارم سمجھتا ہے جو مختلف نقطہ نظر کو یکجا کر کے اتفاق رائے کو فروغ دیتا ہے اور عالمی چیلنجز کا مؤثر حل پیش کرتا ہے۔"

انہوں نے زور دیا کہ پائیدار امن صرف تنہا کوششوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے شمولیتی مکالمے، معاشی تعاون اور علاقائی شراکت داری کی ضرورت ہے، جو متحدہ عرب امارات کی دیرینہ سفارتی حکمت عملی کا بنیادی ستون ہے۔

ریم الہاشمی نے کثیرالطرفہ اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ یہ ادارے زیادہ جامع، مؤثر اور موجودہ عالمی حقائق سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں، نوجوانوں اور ترقی پذیر ممالک کو عالمی فیصلہ سازی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے جانے چاہییں۔

انہوں نے متحدہ عرب امارات کی اقتصادی سفارت کاری کی مثال جامع اقتصادی شراکت داری معاہدوں (سیپا) کے ذریعے دی، جو نہ صرف معاشی لچک کو فروغ دیتے ہیں بلکہ مشترکہ خوشحالی اور اقتصادی مواقع کی فراہمی کے وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔

برکس اجلاس کے موقع پر محترمہ الہاشمی نے متعدد رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، تعلیمی و تکنیکی تعاون اور کثیرالطرفہ پلیٹ فارمز پر متحدہ ہم آہنگی کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں متحدہ عرب امارات کی متحرک شرکت نہ صرف برکس میں اس کی فعال رکنیت کا ثبوت ہے بلکہ عالمی سفارتی اور معاشی تبدیلیوں کے لیے اجتماعی حل کی تشکیل میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ یو اے ای ایک ایسے جامع، متوازن اور پائیدار بین الاقوامی نظام کے قیام کے لیے کوشاں ہے، جو سب کے مفاد میں ہو۔