دی ہیگ، 5 مئی، 2025 (وام) --متحدہ عرب امارات کی نائب معاون وزیر برائے سیاسی امور اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) میں اماراتی نمائندہ ریِم کتیت نے کہا ہے کہ سوڈانی مسلح افواج (SAF) کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر عائد کیے گئے الزامات نہ صرف قانونی جواز سے محروم ہیں بلکہ حقیقت سے بھی کوئی تعلق نہیں رکھتے۔
یہ بات انہوں نے عدالت میں اپنے باضابطہ بیان کے دوران کہی، جس میں امارات نے سوڈان کے تنازع میں غیر جانبداری کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ نہ تو متحدہ عرب امارات اس تنازع کا فریق ہے اور نہ ہی کسی بھی فریق کو عسکری حمایت فراہم کر رہا ہے۔
ریِم کتیت نے عدالت کے روبرو کہا کہ متحدہ عرب امارات خطے میں امن، استحکام اور پرامن سیاسی حل کی پالیسی پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوڈانی مسلح افواج کی جانب سے لگائے گئے الزامات امارات کی بین الاقوامی ساکھ کو متاثر کرنے کی ایک کوشش ہیں، حالانکہ ان کے حق میں کوئی بھی قابلِ اعتماد شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ان الزامات کا مقصد سوڈانی فوج کی داخلی جنگی ذمہ داریوں سے توجہ ہٹانا ہے اور انہیں قانونی کارروائی کے نام پر میڈیا کی توجہ کو اصل تنازع کے اسباب سے ہٹانے کی ایک کوشش کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
ریِم کتیت نے یاد دلایا کہ گزشتہ ماہ ہونے والی ICJ کی سماعت کے دوران بھی متحدہ عرب امارات نے یہی مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ مقدمہ سیاسی مقاصد کے تحت دائر کیا گیا ہے اور اس سے بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی خلاف ورزی کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
عدالت کے سامنے امارات نے ایک بار پھر زور دیا کہ وہ سوڈان میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے عالمی برادری کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔