پیرس، 8 مئی، 2025 (وام)-- فرانسیسی صدر عمانوئل میکرون نے بدھ کے روز شام کے عبوری صدر احمد الشرع کا ایلیزے محل میں استقبال کیا، جو ان کا یورپ کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
صدر میکرون نے اپنی گفتگو میں کہا کہ فرانس شام پر عائد یورپی پابندیوں کو مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ عبوری شامی حکومت اصلاحات اور تبدیلی کی راہ پر گامزن رہے۔
انہوں نے کہاکہ، "میں نے صدر الشرع کو آگاہ کیا کہ اگر اصلاحات کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ہم مزید اقدامات کریں گے۔ سب سے پہلے، یورپی پابندیوں کا تدریجی خاتمہ، اس کے بعد اپنے امریکی شراکت داروں کے ساتھ رابطہ کر کے انہیں بھی اسی حکمتِ عملی پر آمادہ کرنا، اور آخر میں، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے ساتھ مل کر ایک علاقائی فریم ورک تشکیل دینا تاکہ شامی شہریوں، خاص طور پر ماہر افراد، کی واپسی کو ممکن بنایا جا سکے۔"
صدر میکرون نے امریکہ کی جانب سے شام سے فوجی انخلا کو مؤخر کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور خبردار کیا کہ اس وقت انخلا کا کوئی بھی اقدام علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر واپسی اور تعمیر نو کی کوششوں کو سہارا دینا اور امریکی افواج کا قیام برقرار رکھنا سب کے مفاد میں ہے۔
فرانسیسی صدر نے اس بات کو دہرایا کہ "فرانس اب بھی داعش کو سب سے بڑا دہشت گرد خطرہ سمجھتا ہے" اور کہا کہ آئندہ مرحلے میں شام کے ساتھ سیکیورٹی تعاون ناگزیر ہو گا۔
دوسری جانب، صدر احمد الشرع نے کہا کہ شام تمام علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں کے ساتھ مکالمے اور تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ شام نے اسرائیل کے ساتھ کشیدگی میں کمی کے لیے بالواسطہ مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ مزید تنازع سے بچا جا سکے۔
پابندیوں کے حوالے سے صدر الشرع نے کہا کہ ان کی جاری رہائش "قانونی اور اخلاقی طور پر بے بنیاد" ہے، کیونکہ یہ پابندیاں سابق حکومت پر اس کے جرائم کی بنیاد پر لگائی گئی تھیں، جو اب موجود نہیں۔ انہوں نے مزید کہا، "یہ پابندیاں اب کسی مردہ حکومت پر نہیں بلکہ شامی عوام پر اثر انداز ہو رہی ہیں، اور ہمیں یقین ہے کہ صدر میکرون اس پالیسی کے تسلسل کے اثرات سے آگاہ ہیں۔"
انہوں نے تعمیر نو کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی اور کہاکہ، "یہ صرف مالی امداد یا بنیادی ڈھانچے کی بات نہیں، بلکہ ایک تھکی ہوئی اور بکھری ہوئی شامی سوسائٹی میں اعتماد کی بحالی کا عمل بھی ہے۔" انہوں نے کہا کہ فرانس کی شراکت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔