دبئی، 8 مئی، 2025 (وام)--دبئی ایوی ایشن سٹی کارپوریشن (DACC) کے ایگزیکٹو چیئرمین، خلیفہ الزافین نے تصدیق کی ہے کہ المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی ترقیاتی سرگرمیاں مکمل شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہی ہیں۔ یہ پیش رفت اپریل 2024 میں نائب صدر، وزیر اعظم، اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم، کی جانب سے ماسٹر پلان کی منظوری کے بعد سامنے آئی ہے۔
دبئی میں منعقدہ "ایئرپورٹ شو 2025" کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزافین نے بتایا کہ منصوبے کے ابتدائی مراحل کے لیے ٹھیکے دیے جا چکے ہیں، جن میں بنیادی کاموں کی انجام دہی اور دوسرے رن وے کی تعمیر شامل ہے۔ اس کے علاوہ خودکار مسافر نقل و حمل نظام اور سامان کی ہینڈلنگ کے نظام جیسے اہم عناصر کے لیے ٹینڈرز جاری کر دیے گئے ہیں، جن کے معاہدے رواں سال کے اختتام تک مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔
منصوبے کے آئندہ مرحلے میں مرکزی ڈھانچے جیسے بنیادوں، سنٹرل کولنگ اسٹیشنز، اور 132 کے وی سب اسٹیشنز کے لیے ٹینڈرز جاری کیے جائیں گے۔ یہ تمام سرگرمیاں دبئی ایوی ایشن انجینئرنگ پراجیکٹس کارپوریشن کی نگرانی میں مکمل ہو رہی ہیں۔
خلیفہ الزافین نے اس منصوبے کو دبئی اکنامک ایجنڈا (D33) کا ایک کلیدی ستون قرار دیا، جو کہ دبئی کو عالمی ہوا بازی، لاجسٹکس اور اقتصادی مرکز کے طور پر مزید مستحکم کرے گا۔ انہوں نے امارات ایئرلائن کی 2024 میں حاصل کردہ ریکارڈ آمدنی کو ہوا بازی کے شعبے میں مسلسل ترقی کا مظہر قرار دیا۔
منصوبے کے پہلے مرحلے میں ایک مسافر ٹرمینل اور چار کونکورسز شامل ہوں گے، جن سے ہوائی اڈے کی سالانہ مسافروں کی گنجائش 150 ملین تک پہنچ جائے گی، جبکہ حتمی ہدف 260 ملین مسافر اور 12 ملین ٹن کارگو ہے۔
یہ ایئرپورٹ جبل علی پورٹ اور فری زون کے قریب واقع ہے، اور دبئی ساؤتھ کے ملٹی ماڈل لاجسٹکس پلیٹ فارم کو مکمل سپورٹ فراہم کرے گا۔ توقع ہے کہ اس منصوبے سے ہزاروں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ جائیداد، سیاحت، فضائی مال برداری اور دیگر اہم شعبوں میں بھی نمایاں تحریک آئے گی۔
تقریباً 70 مربع کلومیٹر پر محیط یہ ایئرپورٹ 400 سے زائد طیاروں کے گیٹس، خودکار ٹرانسپورٹ سسٹمز اور مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، اور بایومیٹرک شناخت جیسے جدید ترین ٹیکنالوجیز سے لیس ہو گا، اور اس کی تعمیر LEED گولڈ ماحولیاتی معیار کے مطابق کی جائے گی۔
الزافین نے مزید کہا کہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے المکتوم ایئرپورٹ تک منتقلی ایک منظم اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت کی جائے گی تاکہ آپریشنز میں کسی قسم کا تعطل نہ آئے۔ انہوں نے دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) کے ساتھ جاری کوششوں کا بھی ذکر کیا، جن کا مقصد دبئی انٹرنیشنل کے گرد ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا ہے، اور ابتدائی طور پر ان کوششوں کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔