ابو ظہبی، 8 مئی، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات نے سوڈان میں جاری تنازع سے متعلق ایک غیر سرکاری تنظیم کی حالیہ رپورٹ کو گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کی سختی سے تردید کی ہے، جس میں امارات پر AH-4 ہاوٹزر سسٹمز کی موجودگی کے حوالے سے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
یو اے ای کی حکومت نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اس کا کسی بھی متصادم فریق کو اسلحہ یا فوجی مدد فراہم کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور اس نوعیت کے الزامات ثبوت سے عاری اور بے بنیاد ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے اپنا یہ دوٹوک مؤقف اقوام متحدہ کو براہ راست بھی پہنچایا ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سوڈان پر پابندیوں سے متعلق ماہرین کے تازہ ترین پینل کی رپورٹ میں بھی جھلکتا ہے۔ اس رپورٹ میں امارات کے خلاف کوئی الزام یا اسلحے کی منتقلی میں شمولیت کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
رپورٹ میں جس ہاوٹزر توپ خانہ سسٹم کا ذکر کیا گیا ہے، وہ یو اے ای میں تیار کردہ نہیں بلکہ بین الاقوامی منڈی میں گزشتہ ایک دہائی سے دستیاب ایک غیر ملکی ساختہ نظام ہے۔ یہ دعویٰ کہ صرف ایک ہی ملک نے اس نظام کی خریداری یا ترسیل کی ہے، غلط اور ناقابل قبول ہے۔
یو اے ای نے زور دیا ہے کہ ایسی حساس معلومات شائع کرنے سے قبل ان کی سختی سے جانچ اور تصدیق ضروری ہے۔ ملک ایک مربوط اور مؤثر برآمدی کنٹرول نظام کے تحت کام کرتا ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور اسلحہ کی برآمد سے متعلق ذمہ داریوں کے مطابق ہے۔ امارات ان عالمی ذمہ داریوں کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے اور متصادم علاقوں میں اسلحے کی غیر قانونی ترسیل کی روک تھام کے لیے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مکمل تعاون کرتا ہے۔
یو اے ای نے ایک بار پھر سوڈان میں فوری اور مستقل جنگ بندی، عام شہریوں کے تحفظ، اور ایک جامع سیاسی عمل کی بحالی پر زور دیا ہے، جس کا نتیجہ فوجی اثر و رسوخ سے آزاد ایک سول حکومت کی تشکیل کی صورت میں نکلے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات گزشتہ پانچ دہائیوں سے سوڈان کا ایک مستقل اور قابلِ اعتماد شراکت دار رہا ہے، اور آئندہ بھی سوڈانی عوام کے ساتھ اپنی انسانی ہمدردی پر مبنی حمایت اور یکجہتی جاری رکھے گا۔ "ہماری امدادی وابستگی متزلزل نہیں ہو گی۔"