خلیجی ممالک میں بارشوں میں 39 فیصد اضافہ، درجہ حرارت کی بلند ترین اوسط ریکارڈ

مسقط، 6 جولائی (وام)--خلیج تعاون کونسل (GCC) کے شماریاتی مرکز (GCC-Stat) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، سال 2023 کے دوران خلیجی ممالک میں اوسط بارش کی شرح میں 39.6 فیصد اضافہ ہوا، جو 2022 میں 69.7 ملی میٹر کے مقابلے میں بڑھ کر 97.2 ملی میٹر تک پہنچ گئی۔ تاہم یہ شرح 1980 سے 2009 کے طویل مدتی اوسط 109.6 ملی میٹر سے کم رہی۔

اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں خلیجی ممالک میں بارش سے حاصل ہونے والے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیمز کی تعداد بھی بڑھ کر 861 ہو گئی، جو 2022 میں 854 تھی۔

دوسری جانب، 2023 میں خطے میں ریکارڈ کیا گیا درجہ حرارت 48.2 ڈگری سیلسیئس کی بلند ترین اوسط تک پہنچ گیا، جبکہ 2022 میں یہ اوسط 46.8 ڈگری سیلسیئس تھی۔ کم سے کم درجہ حرارت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 2022 میں 5 ڈگری کے مقابلے میں 2023 میں بڑھ کر 9.5 ڈگری سیلسیئس تک پہنچ گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ خلیجی ممالک سورج کی روشنی سے بھرپور استفادہ رکھتے ہیں، جہاں 1999 سے 2018 کے درمیان یومیہ شمسی شعاعوں کی اوسط شدت 5.6 سے 6.4 واٹ فی مربع میٹر رہی۔ یہ بات خطے میں بجلی پیدا کرنے کے لیے شمسی توانائی کی صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے، بالخصوص گرمیوں کے مہینوں میں جب توانائی کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے۔

اسی تناظر میں شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سال 2013 میں جہاں یہ مقدار صرف 0.13 ہزار گیگاواٹ آور تھی، وہیں 2022 تک بڑھ کر 10.8 ہزار گیگاواٹ آور تک پہنچ گئی، جو سالانہ اوسط ترقی کی شرح کے لحاظ سے 81.1 فیصد بنتی ہے۔ شمسی پلانٹس کی ڈیزائن کی گئی صلاحیت بھی گزشتہ دہائی کے دوران سالانہ اوسط 94.6 فیصد کی رفتار سے بڑھی۔

مزید برآں، خطے میں ماحولیاتی نگرانی کرنے والے اسٹیشنز کی تعداد 2013 میں 161 سے بڑھ کر 2023 میں 297 تک پہنچ گئی۔

رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ تمام جی سی سی ممالک نے اقوام متحدہ کے سینڈائی فریم ورک برائے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن (2015–2030) کے تحت قدرتی آفات سے بچاؤ کی قومی حکمت عملیاں تشکیل دی ہیں۔