دبئی میں عالمی سبز معیشت سمٹ 2025، ماحولیاتی تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے کردار پر زور

دبئی، 7 جولائی، 2025 (وام) --دبئی کے حکمران، متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیراعظم، عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی سرپرستی میں منعقد ہونے والی ورلڈ گرین اکانومی سمٹ (ڈبلیو جی ای ایس) نے عالمی ماحولیاتی اقدامات کو فروغ دینے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ کمزور طبقات کو بااختیار بنانے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر اپنی حیثیت مستحکم کر لی ہے۔

یہ کامیابی قابلِ عمل اور مؤثر حل پیش کرنے کے ذریعے حاصل کی گئی ہے، جن کا مقصد ماحولیاتی تحفظ کو بہتر بنانا ہے۔

یہ سمٹ دبئی سپریم کونسل آف انرجی، دبئی الیکٹریسٹی اینڈ واٹر اتھارٹی (دیوا) اور ورلڈ گرین اکانومی آرگنائزیشن (ڈبلیو جی ای او) کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔ اس کا گیارہواں ایڈیشن 1 اور 2 اکتوبر 2025 کو دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں "اثر کے لیے جدت: سبز معیشت کا مستقبل تیز تر بنانا" کے عنوان کے تحت منعقد ہوگا۔

اس بار کانفرنس میں جدید ٹیکنالوجی کے کردار پر توجہ دی جائے گی، خاص طور پر اُن ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے جو موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی استعداد میں کمی رکھتے ہیں۔

'ٹیکنالوجی اور جدت' کے عنوان کے تحت چوتھے صنعتی انقلاب کی ایسی جدید ٹیکنالوجیز پر روشنی ڈالی جائے گی، جن میں مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) شامل ہیں۔ ان کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی کے مؤثر انضمام، پیشن گوئی تجزیات کی بہتری اور کاربن کے اخراج کی نگرانی میں مدد ملے گی۔

سمٹ کے دوران انرجی اسٹوریج کے حل، سرکاری و نجی شراکت داری، اور پائیدار ترقیاتی اہداف کی حمایت کرنے والے اسمارٹ منصوبوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔

اس موقع پر دبئی سپریم کونسل آف انرجی کے نائب چیئرمین، ڈیوا کے ایم ڈی اور سی ای او، اور ڈبلیو جی ای او کے چیئرمین سعید محمد الطایر نے کہا کہ دبئی میں اس سمٹ کا انعقاد متحدہ عرب امارات کے اس عالمی کردار کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد ماحولیاتی تحفظ کے لیے جدید حل پیش کر کے سبز معیشت کی جانب منتقلی کو تیز کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی ترقی پذیر معاشروں کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، کیونکہ یہ معاشرے بنیادی ڈھانچے اور وسائل کی کمی کے باعث شدید موسمی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ایسے میں جدید ٹیکنالوجی کے منصفانہ اور شمولیتی استعمال کے ذریعے ان کمیونٹیز کو بااختیار بنانا ضروری ہے۔

الطایر کے مطابق یہ سمٹ "ذمہ دارانہ اختراع" کو فروغ دینے، عالمی سطح پر تعاون بڑھانے اور موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ڈبلیو جی ای ایس 2025 میں ٹیکنالوجی اور علم کی منتقلی پر زور دیا جائے گا، تاکہ ترقی پذیر ممالک ماحولیاتی اثرات کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکیں۔ اس کے علاوہ، ایسی قانونی اور ضابطہ جاتی فضا قائم کرنے کی سفارش کی جائے گی جو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے اور پھیلانے میں مدد فراہم کرے، خصوصاً اُن ممالک میں جو اس حوالے سے کم تیار ہیں۔