مصنوعی ذہانت کو عسکری مقاصد سے جوڑنے کی کوششیں خطرناک ہیں، گوٹیرس کا انتباہ

نیویارک، 7 جولائی، 2025 (وام) --اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے مصنوعی ذہانت (AI) کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی نگرانی کے لیے مساوات، انسانی حقوق اور ترقی پذیر ممالک کی بھرپور شرکت پر مبنی کثیرالجہتی حکمتِ عملی اپنائی جانی چاہیے۔

یہ بات انہوں نے برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں منعقدہ سترہویں برکس (BRICS) سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت دنیا کی معیشتوں اور معاشروں کو نئی شکل دے رہی ہے، اور اس تبدیلی کے رخ کا تعین دانش مندی سے کرنا ہوگا تاکہ خطرات کو کم اور فوائد کو زیادہ سے زیادہ بنایا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ‘پیکٹ فار دی فیوچر’میں ایک نئی عالمی فریم ورک کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت اقوامِ متحدہ کی قیادت میں ایک خودمختار اور سائنسی مشاورتی ادارہ قائم کیا جائے گا، جو مصنوعی ذہانت کے حوالے سے غیر جانب دار، تحقیق پر مبنی اور تمام رکن ممالک کے لیے قابلِ رسائی رہنمائی فراہم کرے گا۔

گوٹیرس نے پیکٹ فار دی فیوچر کے تحت اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں مصنوعی ذہانت پر باقاعدہ عالمی مکالمے کے انعقاد کی اہمیت بھی اجاگر کی، جس میں تمام ممالک اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کو چند طاقتور ممالک کا مخصوص ہتھیار بننے کے بجائے ایک ایسا اوزار ہونا چاہیے جس سے پوری دنیا، بالخصوص ترقی پذیر ممالک، مستفید ہوں۔ ان ممالک کو عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کے عمل میں فیصلہ کن آواز ملنی چاہیے۔

سیکریٹری جنرل نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ جلد ہی ایک رپورٹ پیش کرنے جا رہے ہیں جس میں ترقی پذیر ممالک میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے تخلیقی اور رضاکارانہ مالیاتی آپشنز کی تجاویز دی جائیں گی۔ انہوں نے برکس ممالک سے ان اقدامات کی حمایت کی اپیل کی۔

انہوں نے کہا کہ جب تک عالمی نظام میں موجود گہرے ساختیاتی عدم توازن کا ازالہ نہیں کیا جاتا، مصنوعی ذہانت کی مؤثر اور منصفانہ حکمرانی ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا اب کثیر قطبی طاقتوں کی حامل ہو چکی ہے، جس کے لیے ایسی بین الاقوامی حکمرانی درکار ہے جو وقت کی ضرورتوں سے ہم آہنگ ہو، خاص طور پر سلامتی کونسل اور عالمی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ موجودہ عالمی ادارے ایک ایسے دور میں تشکیل دیے گئے تھے جو اب گزر چکا ہے، اور ان کی ساخت طاقت کے پرانے توازن کی عکاسی کرتی ہے۔ گوترش نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس ہفتے اسپین کے شہر سیویل میں منعقدہ "فنانسنگ فار ڈیولپمنٹ" کانفرنس کے نتائج کو اہم پیش رفت قرار دیا، جہاں ترقی پذیر ممالک کو عالمی معاشی حکمرانی میں زیادہ شمولیت، مؤثر قرضِ نو تنظیمی نظام، اور ترقیاتی بینکوں کی قرض دینے کی استعداد میں تین گنا اضافہ—بالخصوص نرمی والے قرضوں اور مقامی کرنسی میں فنانسنگ—پر زور دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ترقی پذیر ممالک، خاص طور پر عالمی جنوب کے ممالک کے لیے، ڈیجیٹل خلیج کو ختم کرنے اور مصنوعی ذہانت کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے نہایت اہم ہیں تاکہ یہ ٹیکنالوجی جامع ترقی اور پائیدار خوشحالی کا ذریعہ بن سکے۔

انتونیو گوٹیرس نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ایسا عالمی تعاون جو باہمی اعتماد پر مبنی ہو، اور جو بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری سے شروع ہوتا ہو، انسانیت کی سب سے بڑی اختراع ہے۔