یواے ای یوریشین اقتصادی یونین کے دس بڑے عالمی تجارتی شراکت داروں میں شامل

ابوظہبی، 8 جولائی 2025 (وام)--یوریشین اکنامک کمیشن میں تجارت کے انچارج وزیر آندرے سلپنیف کے مطابق متحدہ عرب امارات اور یوریشین اکنامک یونین (EAEU) کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سیپا) دونوں فریقین کے درمیان اقتصادی تعاون کو گہرا کرنے کے حوالے سے ایک اسٹریٹجک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے اس معاہدے کو تجارتی تنوع اور باہمی سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے ایک کلیدی اقدام قرار دیا۔

امارات نیوز ایجنسی (وام) سے گفتگو کرتے ہوئے سلپنیف نے بتایا کہ یواے ای اب یوریشین یونین کے دس بڑے عالمی تجارتی شراکت داروں میں شامل ہو چکا ہے، کیونکہ یواے ای کا حصہ یونین کی کل بیرونی تجارت میں دو فیصد تک پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران یونین کی برآمدات متحدہ عرب امارات کو چار گنا بڑھ گئی ہیں، جبکہ اماراتی برآمدات میں بھی پچاس فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ تیز رفتار ترقی دونوں فریقین کے درمیان مضبوط معاشی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔

سلپنیف نے کہا کہ یواے ای، اس رفتار کے تحت، یوریشین اکنامک یونین ممالک کے لیے ایک کلیدی تجارتی مرکز بن چکی ہے، جو اب جاپان، برازیل، مصر اور ویتنام جیسے بڑے شراکت داروں سے بھی آگے نکل چکی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ سیپا معاہدہ کسٹمز رکاوٹوں کو کم کرنے اور اشیاء کے تبادلے کے دائرہ کار کو وسعت دینے پر مبنی ہے۔ اس کے تحت 85 فیصد سے زائد اشیاء پر کسٹمز ڈیوٹی میں کمی پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس طرح یونین کی مصنوعات پر اماراتی مارکیٹ میں ڈیوٹی 5 فیصد سے کم ہو کر 0.6 فیصد ہو جائے گی، جبکہ اماراتی مصنوعات پر یونین مارکیٹس میں ڈیوٹی 5.9 فیصد سے گھٹ کر 1.5 فیصد ہو جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ یونین کی جانب سے معاہدے سے مستفید ہونے والی اشیاء میں فولاد، ایلومینیم، پیٹروکیمیکل مصنوعات، صارف اشیاء، ذرائع آمد و رفت، لکڑی کی مصنوعات اور پروسیس شدہ زرعی مصنوعات (جیسے دودھ، مٹھائیاں اور ڈبہ بند خوراک) شامل ہیں۔

دوسری جانب، متحدہ عرب امارات کو پولیمرز، خاص طور پر پولی ایتھیلین اور پولی پروپیلین جیسے اہم شعبوں میں یونین مارکیٹ تک وسیع تر رسائی حاصل ہوگی، اس کے علاوہ کاسمیٹکس، گھریلو اشیاء جیسی صارف مصنوعات بھی شامل ہیں۔

سلپنیف کے مطابق یہ معاہدہ اماراتی کمپنیوں کو 180 ملین آبادی پر مشتمل یونین مارکیٹ میں توسیع کا موقع فراہم کرتا ہے، خاص طور پر موجودہ عالمی تجارتی تبدیلیوں کے تناظر میں۔

انہوں نے متحدہ عرب امارات کو یونین کے لیے اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے اس کی منفرد جغرافیائی حیثیت، ترقی یافتہ بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے والی پالیسیاں کو سراہا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات، یوریشین ممالک کے لیے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی مارکیٹوں تک، خاص طور پر اس کی بین الاقوامی شمال-جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور میں شمولیت کے باعث رسائی کا مرکزی گیٹ وے بن چکا ہے۔

آخر میں سلپنیف نے واضح کیا کہ سیپا معاہدہ زراعت اور صنعت جیسے اہم شعبوں پر مرکوز ہے، کیونکہ یہ دونوں علاقے دونوں فریقین کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل ہیں۔