آذربائیجان متحدہ عرب امارات کا قیمتی تجارتی و سرمایہ کاری شراکت دار ہے: ڈاکٹر ثانی الزیودی

ابوظہبی، 9 جولائی، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے غیر ملکی تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے کہا ہے کہ آذربائیجان یو اے ای کے لیے ایک نہایت اہم تجارتی و سرمایہ کاری شراکت دار ہے۔ انہوں نے یہ بات اس وقت کہی جب یو اے ای اور آذربائیجان کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (سیپا) پر دستخط کیے گئے۔

انہوں نے وام کو دیے گئے بیان میں کہا کہ آذربائیجان، جو مشرقی یورپ اور مغربی ایشیا کے سنگم پر واقع قفقاز کے اہم جغرافیائی خطے میں واقع ہے، نے 2024 میں 4.1 فیصد کی جی ڈی پی نمو حاصل کی، جب کہ غیر تیل شعبے میں ترقی کی شرح 6.3 فیصد رہی۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ غیر تیل تجارت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ برس 36.2 فیصد اضافے کے ساتھ 2.24 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جو آذربائیجان اور خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے درمیان ہونے والی مجموعی تجارت کا 50 فیصد بنتی ہے۔

ڈاکٹر الزیودی نے توقع ظاہر کی کہ یہ معاہدہ 2031 تک متحدہ عرب امارات کی جی ڈی پی میں 680 ملین ڈالر کا اضافہ کرے گا، جبکہ آذربائیجان کی معیشت کو بھی 300 ملین ڈالر کا فائدہ پہنچنے کی امید ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان پائیدار ترقی کے دو طرفہ اثرات کی غمازی کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیپا پر دستخط ایک مثبت پیش رفت ہے جو اس معاشی رفتار کو مزید تیز کرے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ دونوں ممالک کے اقتصادی وژن کو باہم جوڑنے، تجارتی رکاوٹیں دور کرنے اور نجی شعبے کے تعاون کو فروغ دینے کے ذریعے یہ معاہدہ مینوفیکچرنگ، گاڑیوں کی صنعت، زراعت، لاجسٹکس اور مالیاتی خدمات جیسے اہم شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ، "تجارت ہماری معاشی حکمت عملی کا مرکز ہے، اور آذربائیجان جیسے مستقبل بین ممالک کے ساتھ کیے گئے معاہدے ہماری ترقی اور خوشحالی کی کوششوں کو تقویت دیں گے۔"

ڈاکٹر الزیودی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یو اے ای کی جانب سے توانائی اور قابلِ تجدید توانائی جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کو وسعت دینے کا ایک بلند عزم پر مبنی منصوبہ موجود ہے، جس میں 'ادنوک' اور ‘مصدر’ جیسی قومی کمپنیاں اہم کردار ادا کریں گی۔ اس منصوبے کا مقصد نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان معاشی انضمام کو فروغ دینا ہے بلکہ ایک مشترکہ لاجسٹک ڈھانچے کی تشکیل کرنا ہے، جس کے ذریعے علاقائی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کو ممکن بنایا جا سکے گا۔