یورپی یونین کی اعلیٰ خطرے والے ممالک کی فہرست سے اخراج، امارات کے مالیاتی نظام پر عالمی اعتماد کا مظہر: محمد الحسینی

دبئی، 10 جولائی، 2025 (وام) --وزیرِ مملکت برائے مالی امور محمد بن ہادی الحسینی نے یورپی یونین کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خطرے سے دوچار تیسرے ممالک کی فہرست سے نکالنے کے فیصلے کو ایک اسٹریٹجک سنگِ میل قرار دیا ہے، جو امارات کے مالیاتی نظام کی شفافیت، اعتماد اور اعلیٰ عالمی معیار کے لیے کی جانے والی جامع کوششوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ متحدہ عرب امارات کی حیثیت کو ایک قابلِ بھروسہ اور شفاف عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر اجاگر کرتا ہے، جو بین الاقوامی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہے اور کھلے پن کے اصولوں پر کاربند ہے۔

اس موقع پر الحسینی نے مزید کہاکہ، "امارات بین الاقوامی سطح پر ایک ذمہ دار اور فعال شراکت دار کے طور پر اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے، جو عالمی مالیاتی نظام کی دیانت داری کے تحفظ میں بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔"

انہوں نے واضح کیا کہ یہ پیش رفت متعلقہ قومی اداروں کے درمیان مسلسل رابطے اور مربوط کوششوں کا نتیجہ ہے، جس کی قیادت نائب وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور انسدادِ منی لانڈرنگ قومی حکمت عملی کی اعلیٰ کمیٹی کے چیئرمین شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کر رہے ہیں، اور یورپی یونین کے ساتھ قریبی شراکت داری اس کامیابی میں کلیدی عنصر رہی ہے۔

الحسینی نے اس بات پر زور دیا کہ اس سنگِ میل سے نہ صرف سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کا اعتماد بڑھے گا بلکہ سرمایہ کاری کے تسلسل کو بھی تقویت ملے گی، اور امارات کی بطور عالمی مالیاتی و سرمایہ کاری مرکز حیثیت مزید مستحکم ہو گی۔

انہوں نے بتایاکہ وزارتِ مالیات، وفاقی اور مقامی اداروں کے ساتھ اشتراک میں، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ بہترین طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے امارات کی مسابقتی مالی حیثیت کو بہتر بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی، تاکہ مستحکم اقتصادی ترقی کے قومی اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔