ادنوک گیس اور جرمنی کی 'SEFE' کے درمیان تین سالہ ایل این جی معاہدہ

ابوظہبی، 10 جولائی 2025 (وام) --ادنوک گیس پی ایل سی اور اس کی ذیلی کمپنیاں، جنہیں اجتماعی طور پر "ادنوک گیس" کہا جاتا ہے، نے جرمنی کی کمپنی SEFE (Securing Energy for Europe) کے ساتھ تین سالہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) فراہمی کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت 0.7 ملین ٹن ایل این جی کی ترسیل کا آغاز اسی سال سے کیا جائے گا۔

تقریباً 400 ملین امریکی ڈالر (1.5 ارب اماراتی درہم) مالیت کا یہ معاہدہ، ادنوک گیس کی عالمی منڈیوں میں مسلسل وسعت کا مظہر ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایل این جی کی فراہمی ادنوک گیس کی داس آئی لینڈ لیکویفیکشن تنصیب سے کی جائے گی، جو کمپنی کے اہم اثاثوں میں شمار ہوتی ہے۔

داس آئی لینڈ کا یہ پلانٹ، جو سالانہ 6 ملین ٹن ایل این جی کی پیداواری صلاحیت رکھتا ہے، 1977 سے اب تک دنیا بھر میں 3,500 سے زائد ایل این جی کارگو بھیج چکا ہے، جو ادنوک گیس کے عالمی توانائی شراکت داروں کے ساتھ طویل المدتی تعلقات کو مزید مستحکم کرتا ہے۔

اس موقع پر ادنوک گیس کی سی ای او فاطمہ النعیمی نے کہا کہ، "یہ معاہدہ ‘SEFE’ کے ساتھ ہمارے طویل مدتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ معاہدہ ادنوک گیس کی بطور ایک قابلِ بھروسہ اور ذمہ دار عالمی توانائی فراہم کنندہ حیثیت کو تقویت دیتا ہے، جو جرمنی کی توانائی سلامتی کے لیے پُرعزم ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ کمپنی کی اسٹریٹجک اہداف کی تکمیل میں پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے اور شراکت داروں، سرمایہ کاروں اور متعلقہ فریقین کے اعتماد کی علامت ہے۔

یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات اور جرمنی کے درمیان جاری اسٹریٹجک تعاون کا تسلسل ہے، جس میں 2022 کا توانائی سلامتی اور صنعتی ترقی کا معاہدہ (ESIA) اور 2024 میں ریاست باڈن-وورٹمبرگ کے ساتھ مشترکہ اعلامیہ شامل ہیں، جو توانائی سلامتی اور پائیدار ایندھن کی ترقی کے لیے کیے گئے ہیں۔

'SEFE' کے چیف کمرشل آفیسر فریڈرک بارنو کے مطابق، "گزشتہ دو دہائیوں میں ادنوک کے ساتھ ہمارا تعلق مضبوط ہوا ہے، اور ہم ایسے بااعتماد سپلائر کے ساتھ شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ نیا درمیانی مدتی معاہدہ گزشتہ سال طے پانے والے طویل المدتی معاہدے کی توسیع ہے، جو ہمارے لیے ایل این جی کی مزید لچکدار فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔"

ادنوک گیس، ادنوک کی قدرتی گیس کی پیداواری صلاحیت میں اضافے اور عالمی سطح پر ایل این جی برآمدات کو وسعت دینے کی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ قدرتی گیس، جو دیگر فوسل ایندھن کے مقابلے میں کم کاربن اخراج رکھتی ہے، ایک منتقلی ایندھن کی حیثیت رکھتی ہے اور صنعتوں میں اہم خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔

ادھر 'SEFE' کی جانب سے بھی توانائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی پورٹ فولیو کو وسعت دینے اور عالمی شراکت داری کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس مقصد کے لیے ‘SEFE’ دنیا بھر کے معروف ایل این جی اور قدرتی گیس پیدا کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے تاکہ جرمنی اور یورپ کے لیے متنوع اور قابلِ اعتماد توانائی ذرائع مہیا کیے جا سکیں۔