لندن، 17 جولائی، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے نیشنل میڈیا آفس کے چیئرمین اور اماراتی میڈیا کونسل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سربراہ، عبداللہ بن محمد بن بُطّی الحمید نے لندن میں سابق برطانوی وزیر برائے سائنس، اختراع و ٹیکنالوجی، مشیل ڈونیلن سے ملاقات کی۔
یہ ملاقات 'بریج سمٹ' کے سلسلے میں کی جانے والی ابتدائی تیاریوں کا حصہ تھی، جو رواں سال دسمبر میں ابوظبی میں منعقد ہونے جا رہی ہے۔ ملاقات میں مصنوعی ذہانت اور میڈیا کے شعبے میں مشترکہ تعاون کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا، اور بین الاقوامی شراکت داری کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا گیا، تاکہ میڈیا انفراسٹرکچر کو مضبوط اور تخلیقی معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔
عبداللہ الحمید نے گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت ایک انقلابی ٹول کے طور پر میڈیا کے منظرنامے کو نئی جہت دے رہا ہے، لیکن اس کا استعمال ذمہ داری، شفافیت اور معیار کے اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اے آئی ماڈلز کی ضرورت ہے جو تخلیق اور اخلاقیات کے مابین توازن قائم رکھیں تاکہ مواد کی اعتمادیت اور معیاریّت کو بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 'بریج سمٹ' ایک ایسا پلیٹ فارم ہوگا جو مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال کو نمایاں کرے گا اور اس کی صلاحیت کو اجاگر کرے گا کہ یہ ٹیکنالوجی کس طرح معاشروں اور اقوام کی خدمت کر سکتی ہے۔ انہوں نے یو اے ای کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ٹیکنالوجی اور اختراع میں شراکت داریوں کو فروغ دینا میڈیا کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے مرکزی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
دوسری جانب، مشیل ڈونیلن نے میڈیا میں جدت کے فروغ کے لیے امارات کے قائدانہ کردار کو سراہا اور کہا کہ وہ 'بریج سمٹ' میں شرکت کی منتظر ہیں تاکہ میڈیا اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے میدان میں تجربات اور مہارت کا تبادلہ کیا جا سکے۔